الفتح الربانی
بيان قيام الساعة، النفخ فى الصور، وبعث الناس من قبورهم— قیامت کے برپا ہونے، صور میں پھونکے جانے اور لوگوں کے قبروں سے اٹھائے جانے کا بیان
هَوْلُ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَدُنُو الشَّمْسِ مِنْ رُءُوسِ الخلائق باب: قیامت کے دن کی ہولناکی اور سورج کے لوگوں کے سروں کے قریب ہو جانے کا بیان
حدیث نمبر: 13085
عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ لِعَظَمَةِ الرَّحْمَنِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى إِنَّ الْعَرَقَ لَيُلْجِمُ الرِّجَالَ إِلَى أَنْصَافِ آذَانِهِمْ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن رحمان کی تعظیم کے لیے لوگ ربّ العالمین کے لیے کھڑے ہوں گے، یہاں تک کہ پسینہ ان کے نصف کانوں تک پہنچا ہوا ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … لوگ گرمی کی شدت کی وجہ سے پسینے میں ڈوبے ہوئے ہوں گے۔ زمین میں ستر ہاتھ تک پسینہ ہی پسینہ ہوگا، اور اپنے اپنے اعمال کے حساب سے لوگ پسینے میں ڈوبے ہوئے ہوں گے۔ کوئی ایڑیوں تک، کوئی ٹخنوں تک، کوئی نصف پنڈلیوں تک، کوئی گھٹنوں تک، کوئی دبر تک، کوئی کمر تک، کوئی کندھوں تک، کوئی گردن تک، کوئی منہ تک اور کوئی نصف کانوں تک پسینے میں ڈوبا ہوا ہوگا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس دن کی سختی، گرمی، پریشانی اور گھبراہٹ سے محفوظ رکھے اور ہمارے لیے آسانی فرمائے۔ آمین۔