الفتح الربانی
بيان قيام الساعة، النفخ فى الصور، وبعث الناس من قبورهم— قیامت کے برپا ہونے، صور میں پھونکے جانے اور لوگوں کے قبروں سے اٹھائے جانے کا بیان
هَوْلُ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَدُنُو الشَّمْسِ مِنْ رُءُوسِ الخلائق باب: قیامت کے دن کی ہولناکی اور سورج کے لوگوں کے سروں کے قریب ہو جانے کا بیان
حدیث نمبر: 13083
عَنْ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ، أُدْنِيَتِ الشَّمْسُ مِنَ الْعِبَادِ حَتَّى تَكُونَ قَدْرَ مِيلٍ أَوْ مِيلَيْنِ، قَالَ: فَتَصْهَرُهُمُ الشَّمْسُ، فَيَكُونُونَ فِي الْعَرَقِ كَقَدْرِ أَعْمَالِهِمْ، مِنْهُمْ مَنْ يَأْخُذُهُ إِلَى عَقِبَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَأْخُذُهُ إِلَى حَقْوَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يُلْجِمُهُ الْجَامَ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب قیامت کا دن ہوگا تو سورج انسانوں کے اتنا قریب ہو جائے گا کہ وہ ایک یا دومیل کے فاصلے پر ہو گا، سورج ان کو جھلسے گا اور لوگ اپنے اپنے اعمال کے مطابق پسینے میں شرابور ہوں گے، بعض کا ایڑیوں تک اور بعض کا کمر تک ہو گا اور بعض کا منہ تک پہنچ جائے گا۔