الفتح الربانی
بيان قيام الساعة، النفخ فى الصور، وبعث الناس من قبورهم— قیامت کے برپا ہونے، صور میں پھونکے جانے اور لوگوں کے قبروں سے اٹھائے جانے کا بیان
هَوْلُ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَدُنُو الشَّمْسِ مِنْ رُءُوسِ الخلائق باب: قیامت کے دن کی ہولناکی اور سورج کے لوگوں کے سروں کے قریب ہو جانے کا بیان
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”تَدْنُو الشَّمْسُ مِنَ الْأَرْضِ فَيَعْرَقُ النَّاسُ، فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَبْلُغُ عَرَقُهُ عَقِبَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ الْعَجُزَ وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ الْخَاصِرَةَ وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ مَنْكِبَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ عُنُقَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ وَسَطَ فِيهِ وَأَشَارَ بِيَدِهِ فَأَلْجَمَهَا فَاهُ“ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ هَكَذَا ”وَمِنْهُمْ مَنْ يُغَطِّيهِ عَرَقُهُ“ وَضَرَبَ بِيَدِهِ إِشَارَةًسیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن سورج زمین کے بہت قریب آجائے گا، اس وجہ سے لوگ پسینے میں شرابور ہوں گے، بعض لوگوں کا پسینہ ایڑیوں تک، بعض نصف پنڈلی تک، بعض کا گھٹنوں تک اور بعض کا دبر تک ، بعض کا کوکھ تک، بعض کا کندھوں تک ، بعض کا گردن تک اور بعض کا منہ تک پہنچ جائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے منہ تک کی کیفیت بیان کی اور بعض لوگوں کا پسینہ تو ان کو ڈھانپ لے گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا۔