الفتح الربانی
بيان قيام الساعة، النفخ فى الصور، وبعث الناس من قبورهم— قیامت کے برپا ہونے، صور میں پھونکے جانے اور لوگوں کے قبروں سے اٹھائے جانے کا بیان
الْحَشْرُ وَصِفَةُ النَّاسِ فِيهِ باب: حشر اور اس میں لوگوں کی کیفیت کا بیان
حدیث نمبر: 13079
(وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَكَيْفَ بِالْعَوْرَاتِ؟ قَالَ: {لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ}ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! شرمگاہوں کا کیا بنے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً یہ آیت تلاوت فرمائی: {لِکُلِّ امْرِیٍٔ مِّنْہُمْ یَوْمَئِذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْہِ} (اس دن ان میں سے ہر شخص کا حال ایسا ہوگا جو اسے دوسروں سے بے پروا کر دے گا۔) (سورۂ عبس:۳۷)۔
وضاحت:
فوائد: … گھبراہٹ، خوف اور دہشت کی وجہ سے کسی کو ہمت نہیں کہ وہ دوسرے کی اس کی ننگی حالت میں دیکھ سکے۔ نَسْاَلُ اللّٰہَ الْعَافِیَۃَ۔