الفتح الربانی
بيان قيام الساعة، النفخ فى الصور، وبعث الناس من قبورهم— قیامت کے برپا ہونے، صور میں پھونکے جانے اور لوگوں کے قبروں سے اٹھائے جانے کا بیان
الْحَشْرُ وَصِفَةُ النَّاسِ فِيهِ باب: حشر اور اس میں لوگوں کی کیفیت کا بیان
حدیث نمبر: 13078
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”إِنَّكُمْ تُحْشَرُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا“ قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ؟ قَالَ: ”يَا عَائِشَةُ! إِنَّ الْأَمْرَ أَشَدُّ مِنْ أَنْ يُهِمَّهُمْ ذَلِكَ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں قیامت کے دن ننگے پاؤں ، برہنہ جسم اور غیر مختون اٹھایا جائے گا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس طرح تو مرد اور عورتیں ایک دوسرے کو دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! اس وقت معاملہ اتنا سنگین ہو گا کہ ان کو یہ خیال ہی نہیں آئے گا۔