الفتح الربانی
بيان قيام الساعة، النفخ فى الصور، وبعث الناس من قبورهم— قیامت کے برپا ہونے، صور میں پھونکے جانے اور لوگوں کے قبروں سے اٹھائے جانے کا بیان
الْحَشْرُ وَصِفَةُ النَّاسِ فِيهِ باب: حشر اور اس میں لوگوں کی کیفیت کا بیان
حدیث نمبر: 13076
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَلَاثَةَ أَصْنَافٍ: صِنْفٌ مُشَاةٌ وَصِنْفٌ رُكْبَانٌ وَصِنْفٌ عَلَى وُجُوهِهِمْ“ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَكَيْفَ يَمْشُونَ عَلَى وُجُوهِهِمْ؟ قَالَ: ”إِنَّ الَّذِي أَمْشَاهُمْ عَلَى أَرْجُلِهِمْ قَادِرٌ عَلَى أَنْ يُمْشِيَهُمْ عَلَى وُجُوهِهِمْ، أَمَا إِنَّهُمْ يَتَّقُونَ بِوُجُوهِهِمْ كُلَّ حَدَبٍ وَشَوْكٍ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن لوگوں کو تین حالتوں میں اٹھایا جائے گا، بعض لوگ پیدل ہوں گے، بعض سوار ہوں گے اور بعض چہروں کے بل چل رہے ہوں گے۔ صحابہ کرام نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! وہ اپنے چہروں کے بل کیسے چلیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس ہستی نے ان کو ٹانگوں کے بل چلنے کی طاقت دی ہے، وہ انہیں چہروں کے بل چلانے پر بھی قادر ہے، خبردار! وہ اپنے چہروں کے ذریعے بلند اورسخت جگہ اور کانٹوں سے بچنے کی کوشش بھی کر یں گے۔
وضاحت:
فوائد: … پچھلے باب میں اس حدیث کی وضاحت کی گئی ہے۔