الفتح الربانی
بيان قيام الساعة، النفخ فى الصور، وبعث الناس من قبورهم— قیامت کے برپا ہونے، صور میں پھونکے جانے اور لوگوں کے قبروں سے اٹھائے جانے کا بیان
البَعْثُ وَأَوَّلُ مَنْ يُبْعَثُ مِنَ الْبَشَرِ باب: قیامت کے اچانک برپا ہو جانے اور سب سے آخرمیں مرنے والے آدمی کا بیان ¤ لوگوں کو ان کی قبروں سے اٹھائے جانے ، میدان ِ حشر میں جمع کیے جانے اور ان کی اس وقت کی شدید گھبراہٹ کا بیان ¤ لوگوں کو اٹھائے جانے کا اور سب سے پہلے اٹھائے جانے والے بشر کا بیان
وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْبَهْزِيِّ عَنْ أَبِيهِ (مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ: ”هَا هُنَا تُحْشَرُونَ ثَلَاثًا رُكْبَانًا وَمُشَاةً وَعَلَى وُجُوهِكُمْ تُوفُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ سَبْعُونَ أُمَّةً، أَنْتُمْ آخِرُ الْأُمَمِ وَأَكْرَمُهَا عَلَى اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، تَأْتُونَ فِي الْقِيَامَةِ وَعَلَى أَفْوَاهِكُمْ الْفِدَامُ، أَوَّلُ مَا يُعْرِبُ عَنْ أَحَدِكُمْ فَخِذُهُ“ قَالَ ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ: فَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الشَّامِ فَقَالَ: ”إِلَى هَا هُنَا تُحْشَرُونَ“سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں تین طرح سے اٹھایا جائے گا، بعض لوگ سوار ہوں گے، بعض پیدل چلنے والے ہوں گے اور بعض چہروں کے بل چلتے ہوں گے، تم قیامت کے دن ستر کے عدد کو پورا کرو گے، جبکہ تم آخری امت ہو اور تم اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ معزز ہو، تمہارے چہروں پرمہریں لگی ہوں گی، سب سے پہلے تمہاری رانیں بولیں گی۔ ابن ابی بکیر نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارضِ شام کی طرف اشارہ کرکے فرمایا: تمہیں وہاں اکٹھا کیا جائے گا۔
کامل الایمان لوگ سوار ہو کر اور نیک و بد اعمال والے مؤمن پیدل جائیں گے۔
بڑی رسوائی ان کی ہو گی، جو پاؤں کے بجائے چہرے کے بل چل رہے ہوں گے، یہ کافر لوگ ہوں گے، ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: { وَمَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَہُمْ اَوْلِیَاء َ مِنْ دُوْنِہٖ وَنَحْشُرُہُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ عَلٰی وُجُوْہِہِمْ عُمْیًا وَّبُکْمًا وَّصُمًّا مَاْوٰیہُمْ جَہَنَّمُ کُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰہُمْ سَعِیْرًا } … اور جنھیں گمراہ کر دے تو تو ان کے لیے اس کے سوا ہرگز کوئی مدد کرنے والے نہیں پائے گا اور قیامت کے دن ہم انھیں ان کے چہروں کے بل اندھے اور گونگے اور بہرے اٹھائیں گے، ان کا ٹھکانا جہنم ہے، جب کبھی بجھنے لگے گی ہم ان پر بھڑکانا زیادہ کر دیں گے۔ (سورۂ اسرائ: ۹۷)
ناطق کے مقابلے میں غیر ناطق چیزوں کا گواہی دینے کو حجت و استدلال میں زیادہ بلیغ سمجھا جاتا ہے۔یہ موضوع قرآن مجید میں بھی بیان کیا گیا ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {حَتّٰی اِِذَا مَا جَائُ وْہَا شَہِدَ عَلَیْہِمْ سَمْعُہُمْ وَاَبْصَارُہُمْ وَجُلُودُہُمْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَo وَقَالُوْا لِجُلُودِہِمْ لِمَ شَہِدْتُمْ عَلَیْنَا قَالُوْا اَنطَقَنَا اللّٰہُ الَّذِیْ اَنطَقَ کُلَّ شَیْئٍ } (سورۂ حم السجدہ: ۲۰، ۲۱) … جب وہ (اللہ کے دشمن) جہنم کے قریب آ جائیں گے تو ان پر ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کی کھالیں، ان کے اعمال کی گواہی دیں گے۔ یہ اپنی کھالوں سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف شہادت کیوں دی۔ وہ جواب دیں گی کہ ہمیں اس اللہ نے قوت ِ گویائی عطا فرمائی جس نے ہر چیز کو بولنے کی طاقت بخشی ہے۔ سورۂ یسین میںبھی یہ موضوع بیان ہوا ہے۔
یہ میدان حشر کے ہولناک مناظرہیں۔ اَعَاذَنَا اللّٰہُ مِنْ غَضَبِہٖ بِفَضْلِہ۔