الفتح الربانی
بيان قيام الساعة، النفخ فى الصور، وبعث الناس من قبورهم— قیامت کے برپا ہونے، صور میں پھونکے جانے اور لوگوں کے قبروں سے اٹھائے جانے کا بیان
البَعْثُ وَأَوَّلُ مَنْ يُبْعَثُ مِنَ الْبَشَرِ باب: قیامت کے اچانک برپا ہو جانے اور سب سے آخرمیں مرنے والے آدمی کا بیان ¤ لوگوں کو ان کی قبروں سے اٹھائے جانے ، میدان ِ حشر میں جمع کیے جانے اور ان کی اس وقت کی شدید گھبراہٹ کا بیان ¤ لوگوں کو اٹھائے جانے کا اور سب سے پہلے اٹھائے جانے والے بشر کا بیان
حدیث نمبر: 13071
وَعَنْ أَبِي رَزِينٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ يُحْيِي اللَّهُ الْمَوْتَى؟ فَقَالَ: ”أَمَا مَرَرْتَ بِوَادٍ مُمَحَّلٍ ثُمَّ مَرَرْتَ بِهِ خَصِيبًا“ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: ”ثُمَّ تَمُرُّ بِهِ خَضِرًا“ قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: ”كَذَلِكَ يُحْيِي اللَّهُ الْمَوْتَى“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابورزین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ مردوں کو کیسے زندہ کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم کبھی ایسی بے آباد وادی سے گزرے ہو کہ وہاں سے جب دوبارہ گزرے ہو تو وہ سر سبز ہوچکی ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اسی طرح مردوں کو زندہ کرے گا۔