حدیث نمبر: 13066
عَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”يَتْرُكُونَ الْمَدِينَةَ عَلَى خَيْرِ مَا كَانَتْ عَلَيْهِ لَا يَغْشَاهَا إِلَّا الْعَوَافِي“، قَالَ: يُرِيدُ عَوَافِيَ السِّبَاعِ وَالطَّيْرِ، ”وَآخِرُ مَنْ يُحْشَرُ رَاعِيَانِ مِنْ مُزَيْنَةَ يَنْعِقَانِ بِغَنَمِهِمَا فَيَجِدَانِهَا وَحُوشًا حَتَّى إِذَا بَلَغَا ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ حُشِرَا عَلَى وُجُوهِهِمَا أَوْ خَرَّا عَلَى وُجُوهِهِمَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا: لوگ مدینہ کو خیر آباد کہہ دیں گے، حالانکہ وہ ان کے لیے سب سے بہتر ہو گا، (درندے اور پرندے جیسے) روزی کے متلاشی جانور اس کو اپنی آماجگاہ بنا لیں گے، سب سے آخر میں مزینہ قبیلے کے دو چرواہے اپنی بکریوں کو ڈانٹتے للکارتے مدینہ کی طرف آئیں گے، (جب پہنچیں گے تو) اسے اجاڑ اور ویران پائیں گا، جب وہ ثنیۂ وداع تک پہنچیں گے تو چہروں کے بل ان کو اکٹھا کیا جائے گا یا چہروں کے بل وہ گر پڑیں گے۔

وضاحت:
فوائد: … اگرچہ مدینہ منورہ سے خلافت شام و عراق کی طرف منتقل ہوجانے کو اس حدیث کا مصداق ٹھہرایا گیا ہے، لیکن حقیقت ِ حال یہ ہے کہ یہ حالات قیامت کے قریب ظاہر ہوں گے۔ حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے مختلف شواہد بھی ذکر کیے ہیں۔ (ملاحظہ ہو:فتح الباری: ۴/ ۱۱۱، ۱۱۲)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان قيام الساعة، النفخ فى الصور، وبعث الناس من قبورهم / حدیث: 13066
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1874، ومسلم: 1389، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7193 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7193»