حدیث نمبر: 13065
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لِتَقُمِ السَّاعَةُ وَثَوْبُهُمَا بَيْنَهُمَا لَا يَطْوِيَانِهِ وَلَا يَتَبَايَعَانِهِ، وَلْتَقُمِ السَّاعَةُ وَقَدْ حَلَبَ لِقْحَتَهُ وَلَا يَطْعَمُهَا، وَلْتَقُمُ السَّاعَةُ وَقَدْ رَفَعَ لُقْمَتَهُ إِلَى فِيهِ وَلَا يَطْعَمُهَا، وَلْتَقُمِ السَّاعَةُ وَالرَّجُلُ يَلِيطُ حَوْضَهُ لَا يَسْقِي مِنْهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو آدمی کپڑے کی خرید و فروخت کر رہے ہوں گے، ان کے سامنے کپڑا پڑا ہوگا، لیکن نہ وہ اسے لپیٹ سکیں گے اور نہ بیع پوری ہو گی کہ قیامت برپا ہو جائے گی، ایک آدمی اونٹنی کا دودھ دوہ چکا ہوگا، مگر ابھی تک اسے پی نہیں سکے گا کہ قیامت قائم ہو جائے گی، اسی طرح ایک آدمی اپنے منہ کی طرف لقمہ اٹھائے گا، لیکن ابھی تک کھائے گا نہیں کہ قیامت برپا ہو جائے گی اور ایک آدمی اپنے حوض کو پلستر کر رہاہو گا، مگر اس سے پانی پینے کی نوبت نہیں آئے گی کہ قیامت قائم ہو جائے گی۔

وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ قیامت اچانک قائم ہوگی، لوگ اپنے دنیاوی کاموںمیں مصروف ہوں گے مگر انہیں ان کی تکمیل کی فرصت نہیں مل سکے گی، کوئی خرید و فروخت کر رہا ہوگا، کوئی جانوروں کا دودھ دوہ رہا ہوگا، کوئی کھانا کھا رہا ہوگا، کوئی حوض وغیرہ کی تعمیر کر رہا ہو گا، مگر ان کے یہ کام پایۂ تکمیل کو پہنچنے سے پہلے پہلے قیامت قائم ہوگی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان قيام الساعة، النفخ فى الصور، وبعث الناس من قبورهم / حدیث: 13065
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6506، 7121، ومسلم: 2954 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8824 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8810»