حدیث نمبر: 13064
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”كَيْفَ أَنْعَمُ وَصَاحِبُ الْقَرْنِ قَدِ الْتَقَمَ الْقَرْنَ وَحَنَى جَبْهَتَهُ وَأَصْغَى السَّمْعَ مَتَى يُؤْمَرُ“، قَالَ: فَسَمِعَ ذَلِكَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَشَقَّ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”قُولُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں کیسے خوش رہوں جب کہ صور پھونکنے والا فرشتہ صور کو منہ میں لیے پیشانی جھکائے اور کانوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف لگائے اس انتظار میں کھڑا ہے کہ کب اسے صور میں پھونک مارنے کا حکم ملتا ہے؟ جب صحابہ نے یہ بات سنی تو یہ ان پر بہت گراں گزری، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم یہ کلمہ پڑھو: حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ ( ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کار ساز ہے)۔

وضاحت:
فوائد: … اس موضوع سے متعلقہ ایک اور حدیث درج ذیل ہے: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ طَرْفَ صَاحِبِ الصُّوْرِ مُنْذُ وُکِّلَ بِہٖ مُسْتَعِدٌّ یَنْظُرُ نَحْوَ الْعَرْشِ، مَخَافَۃَ اَنْ یُّؤْمَرَ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْہِ طَرْفُہٗ، کَأَنَّ عَیْنَیْہِ کَوْکَبَانِ دُرِّیَّانِ۔)) … جب سے صور پھونکنے کی ذمہ داری صور پھونکنے والے فرشتے کو سونپی گئی، اس وقت سے اس کی نگاہ پلکوں کی جھپک کے بغیر عرش کی طرف لگی ہوئی ہے، اس ڈر سے کہ کہیںپلکوں کی جھپک کے لوٹنے سے پہلے ہی حکم نہ دے دیا جائے۔ (ہمیشہ سے کھلا رہنے کی وجہ سے) اس کی آنکھیں دو چمکدار ستاروں کی مانند لگتی ہیں۔ (حاکم: ۴/۵۵۸۔ ۵۵۹، صحیحہ:۱۰۷۸)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان قيام الساعة، النفخ فى الصور، وبعث الناس من قبورهم / حدیث: 13064
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه الطبراني في الكبير : 5072 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19345 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19560»