حدیث نمبر: 13063
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ قَالَ: ”كَيْفَ أَنْعَمُ وَقَدِ الْتَقَمَ صَاحِبُ الْقَرْنِ الْقَرْنَ وَحَنَى جَبْهَتَهُ وَأَصْغَى سَمْعَهُ يَنْتَظِرُ مَتَى يُؤْمَرُ“، قَالَ الْمُسْلِمُونَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَمَا نَقُولُ؟ قَالَ: ”قُولُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ، عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں خوشی کیونکر مناؤں جب کہ صور پھونکنے والا فرشتہ صور کو منہ میں لیے اپنی پیشانی کو جھکائے اور اپنی سماعت کو اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ کیے ہوئے کھڑا ہے کہ کب اسے صور میں پھونک مارنے کا حکم ملتا ہے؟ یہ سن کر مسلمانوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کیا کہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم یہ کہو: حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ عَلَی اللّٰہِ تَوَکَّلْنَا ہمارے لیے اللہ کافی ہے، وہ بہترین کار ساز ہے، ہم نے اللہ ہی پر توکل کیا۔

وضاحت:
فوائد: … یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آخرت کے معاملات کے بارے میں فکر تھی، جب مسلمان کو آخرت کے واقعات کی وجہ سے گھبراہٹ اور فکر لاحق ہو تو درج ذیل دعا پڑھے۔
حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ، عَلَی اللّٰہِ تَوَکَّلْنَا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان قيام الساعة، النفخ فى الصور، وبعث الناس من قبورهم / حدیث: 13063
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه الترمذي: 2431، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11039 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11054»