الفتح الربانی
بيان قيام الساعة، النفخ فى الصور، وبعث الناس من قبورهم— قیامت کے برپا ہونے، صور میں پھونکے جانے اور لوگوں کے قبروں سے اٹھائے جانے کا بیان
النَّفْخُ فِي الصُّوْرِ باب: صور پھونکے جانے کا بیان
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ قَالَ: ”كَيْفَ أَنْعَمُ وَقَدِ الْتَقَمَ صَاحِبُ الْقَرْنِ الْقَرْنَ وَحَنَى جَبْهَتَهُ وَأَصْغَى سَمْعَهُ يَنْتَظِرُ مَتَى يُؤْمَرُ“، قَالَ الْمُسْلِمُونَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَمَا نَقُولُ؟ قَالَ: ”قُولُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ، عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا“سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں خوشی کیونکر مناؤں جب کہ صور پھونکنے والا فرشتہ صور کو منہ میں لیے اپنی پیشانی کو جھکائے اور اپنی سماعت کو اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ کیے ہوئے کھڑا ہے کہ کب اسے صور میں پھونک مارنے کا حکم ملتا ہے؟ یہ سن کر مسلمانوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کیا کہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم یہ کہو: حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ عَلَی اللّٰہِ تَوَکَّلْنَا ہمارے لیے اللہ کافی ہے، وہ بہترین کار ساز ہے، ہم نے اللہ ہی پر توکل کیا۔
حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ، عَلَی اللّٰہِ تَوَکَّلْنَا۔