الفتح الربانی
بيان قيام الساعة، النفخ فى الصور، وبعث الناس من قبورهم— قیامت کے برپا ہونے، صور میں پھونکے جانے اور لوگوں کے قبروں سے اٹھائے جانے کا بیان
النَّفْخُ فِي الصُّوْرِ باب: صور پھونکے جانے کا بیان
حدیث نمبر: 13062
عَنْهُ أَيْضًا: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”النَّفَّاخَانِ فِي السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ، رَأْسُ أَحَدِهِمَا بِالْمَشْرِقِ وَرِجْلَاهُ بِالْمَغْرِبِ“، أَوْ قَالَ: ”رَأْسُ أَحَدِهِمَا بِالْمَغْرِبِ وَرِجْلَاهُ بِالْمَشْرِقِ، يَنْتَظِرَانِ مَتَى يُؤْمَرَانِ يَنْفُخَانِ فِي الصُّورِ فَيَنْفُخَانِ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صور پھونکنے والے دو فرشتے دو سرے آسمان پر ہیں، وہ اس قدر بڑے بڑے ہیں کہ ان میں سے ایک کا سر مشرق میں اور اس کے پاؤں مغرب میں ہیں۔ یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں فرمایا: ان میں سے ایک کا سر مغرب میں اور اس کے پاؤں مشرق میں ہیں، وہ اس انتظار میں ہیں کہ انہیں کب صور میں پھونک مارنے کا حکم ملے تو وہ پھونک مار دیں۔