الفتح الربانی
علامات أخرى— دیگر علامات
الْخَسْفُ وَكَثرَةُ الصَّوَاعِقِ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ باب: لوگوں کا زمین میں دھنسا یا جانا اور لوگوں کاکثرت سے بے ہوش ہونا
حدیث نمبر: 13049
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَحَّارٍ الْعَبْدِيِّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُخْسَفَ بِقَبَائِلَ، فَيُقَالُ: مَنْ بَقِيَ مِنْ بَنِي فُلَانٍ“، قَالَ: فَعَرَفْتُ حِينَ قَالَ قَبَائِلَ أَنَّهَا الْعَرَبُ، لِأَنَّ الْعَجَمَ تُنْسَبُ إِلَى قُرَاهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا صحار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک کئی قبائل کو زمین میں دھنسا نہیں دیا جائے گا ، (جب ایک قبیلہ کو دھنسایا جائے گا تو) پوچھا جائے گا کہ بنو فلاں میں سے کون کون بچا ہے؟ سیدنا صحار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبائل کا ذکر کیا تو میں پہچان گیا کہ یہ عرب لوگ ہوں گے، کیونکہ عجمی لوگوں کو تو بستیوں کاطرف منسوب کیا جاتا ہے۔