حدیث نمبر: 13047
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”أُتْرُكُوا الْحَبَشَةَ مَا تَرَكُوكُمْ، فَإِنَّهُ لَا يَسْتَخْرِجُ كَنْزَ الْكَعْبَةِ إِلَّا ذُو السُّوَيْقَتَيْنِ مِنَ الْحَبَشَةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابوامامہ بن سہل بن حنیف سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے ایک صحابی کو سنا کہ وہ بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم حبشی لوگوں کو اس وقت تک نہ چھیڑو، جب تک وہ تمہیں چھوڑیں رکھیں، کیونکہ کعبہ کے خزانوں کو نکالنے والا چھوٹی پنڈلیوں والا حبشی ہو گا۔

وضاحت:
فوائد: … حبشیوں کے بارے میں یہ رخصت دینے کا پس منظر یہ تھا کہ حبشی علاقہ مسلمانوں کے علاقوں سے بہت دور تھا، اس تک پہنچنے کے لیے بہت زیادہ محنت و مشقت درکار تھی، اسی قسم کا معاملہ ترکوں کا ہے، کہ ان کا علاقہ بہت ٹھنڈا تھا، جبکہ اس وقت عرب لوگوں کا خطہ گرم تھا اور ترک لوگ لڑنے میں بھی بڑے سخت تھے۔ ان امور کو دیکھ کر مشروط خاموشی اختیار کرنے کی تعلیم دی گئی۔ لیکن اگر ایسے ہو کہ وہ مسلمانوں کے علاقوں میں گھس آئیں تو ان سے ہر ایک کا لڑنا ضروری ہو جائے گا۔
کعبہ کے خزانے سے مراد اس میں دفن شدہ مال ہے، حبشیوں کے مذکورہ شرّ کی وجہ سے ان سے جنگ نہ چھیڑنے کی تلقین کی گئی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / علامات أخرى / حدیث: 13047
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه ابوداود: 4309 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23155 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23542»