حدیث نمبر: 13042
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي حَدِيثٍ ذَكَرَ فِي أَوَّلِهِ الدَّجَّالَ ثُمَّ نُزُولَ نَبِيِّ اللَّهِ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ وَقَتْلَهُ الدَّجَّالَ قَالَ: ”ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ رِيحًا بَارِدَةً مِنْ قِبَلِ الشَّامِ، فَلَا يَبْقَى أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ إِلَّا قَبَضَتْهُ، حَتَّى لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ كَانَ فِي كَبِدِ جَبَلٍ لَدَخَلَتْ“، قَالَ: سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”وَيَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ“، الْحَدِيثَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے ایک حدیث ذکر کی، اس کے شروع میں دجال کے ظہور کا اور اللہ کے نبی حضرت عیسی علیہ السلام کے نزول کا اور دجال کو قتل کرنے کا ذکر ہے، بیچ میں یہ الفاظ بھی ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے بعد اللہ تعالیٰ ارضِ شام کی طرف سے ایک خوشگوار قسم کی ہوا چلائے گا، جس شخص کے دل میں ذرہ برابر ایمان ہوگا، وہ اس کی روح قبض کر لے گی، یہاں تک کہ اگر کوئی مومن کسی پہاڑ کے بیچ میں ہوا تو وہ وہاں بھی جا پہنچے گی۔ سیدناعبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر صرف بدترین لوگ رہ جائیں گے، … … ۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / علامات أخرى / حدیث: 13042
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2940، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6555 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6555»