الفتح الربانی
علامات أخرى— دیگر علامات
مجيءُ رِيحٍ بَارِدَةٍ تَقْبِضُ أَزْوَاحَ الْمُؤْمِنِينَ باب: ایک خوش گوار قسم کی ہوا کا چلنا، جو اہل ایمان کی روحیں قبض کر لے گی
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي حَدِيثٍ ذَكَرَ فِي أَوَّلِهِ الدَّجَّالَ ثُمَّ نُزُولَ نَبِيِّ اللَّهِ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ وَقَتْلَهُ الدَّجَّالَ قَالَ: ”ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ رِيحًا بَارِدَةً مِنْ قِبَلِ الشَّامِ، فَلَا يَبْقَى أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ إِلَّا قَبَضَتْهُ، حَتَّى لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ كَانَ فِي كَبِدِ جَبَلٍ لَدَخَلَتْ“، قَالَ: سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”وَيَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ“، الْحَدِيثَسیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے ایک حدیث ذکر کی، اس کے شروع میں دجال کے ظہور کا اور اللہ کے نبی حضرت عیسی علیہ السلام کے نزول کا اور دجال کو قتل کرنے کا ذکر ہے، بیچ میں یہ الفاظ بھی ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے بعد اللہ تعالیٰ ارضِ شام کی طرف سے ایک خوشگوار قسم کی ہوا چلائے گا، جس شخص کے دل میں ذرہ برابر ایمان ہوگا، وہ اس کی روح قبض کر لے گی، یہاں تک کہ اگر کوئی مومن کسی پہاڑ کے بیچ میں ہوا تو وہ وہاں بھی جا پہنچے گی۔ سیدناعبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر صرف بدترین لوگ رہ جائیں گے، … … ۔