الفتح الربانی
ظهور يأجوج ومأجوج من علامات الساعة الكبرى— یاجوج ماجوج کا ظہور بھی قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ہے
طلوع الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَعَلْقُ بَابِ التَّوْبَةِ باب: سورج کے مغرب کی طرف سے طلوع ہونے اور توبہ کے دروازے کے بند ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 13029
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا فَإِذَا طَلَعَتْ وَرَآهَا النَّاسُ آمَنَ مَنْ عَلَيْهَا فَذَلِكَ حِينٌ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک سورج مغرب کی طرف سے طلوع نہ ہوجائے اور جب یہ مغرب کی طرف سے طلوع ہوگا اور لوگ اسے دیکھ لیں گے تو سب لوگ ایمان لے آئیں گے، مگر یہ ایسا وقت ہوگا کہ کسی ایسے شخص کو اس کا ایما ن لانا فائدہ نہیں دے گا، جو اس سے پہلے ایمان نہیں لایا ہو گا یا اس نے اپنے ایمان میں کوئی اچھا عمل نہیں کیا ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {یَوْمَ یَاْتِیْ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّکَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُھَا لَمْ تَکُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْکَسَبَتْ فِیْٓ اِیْمَانِھَا خَیْرًا} … جس دن تیرے رب کی کوئی نشانی آئے گی کسی شخص کو اس کا ایمان فائدہ نہ دے گا، جو اس سے پہلے ایمان نہ لایا تھا، یا اپنے ایمان میں کوئی نیکی نہ کمائی تھی۔ (سورۂ انعام: ۱۵۸)
اس آیت میں مذکورہ نشانی سے مراد مغرب سے سورج کا طلوع ہونا ہے، جب سورج مشرق کی بجائے مغرب سے طلوع ہو گا تو توبہ کا دروازہ بند ہو جائے گا اور کسی کا ایمان لانا اس کو فائدہ نہیں دے گا۔
اس نشانی کے ظہور کے وقت جس کے ایمان یا کفر اور نیکی یا برائی کی جو کیفیت ہو گی، وہی معتبر ہو گی، اگرچہ نشانی کو دیکھنے کے بعد سارے لوگ ایمان لے آئیں گے، لیکن یہ ایمان ان کو نفع نہیں دے گا، نیز اس علامت کے بعد کوئی نیکی فائدہ مند نہیں ہو گی۔
اس آیت میں مذکورہ نشانی سے مراد مغرب سے سورج کا طلوع ہونا ہے، جب سورج مشرق کی بجائے مغرب سے طلوع ہو گا تو توبہ کا دروازہ بند ہو جائے گا اور کسی کا ایمان لانا اس کو فائدہ نہیں دے گا۔
اس نشانی کے ظہور کے وقت جس کے ایمان یا کفر اور نیکی یا برائی کی جو کیفیت ہو گی، وہی معتبر ہو گی، اگرچہ نشانی کو دیکھنے کے بعد سارے لوگ ایمان لے آئیں گے، لیکن یہ ایمان ان کو نفع نہیں دے گا، نیز اس علامت کے بعد کوئی نیکی فائدہ مند نہیں ہو گی۔