الفتح الربانی
بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة— قیامت سے قبل ظاہر ہونے والی بڑی علامتوں کا بیان
فَصْلٌ فِي نُزُولِ نَبِيِّ اللَّهِ عِيسَى بْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ ٱلسَّلَامُ وَقَتْلِهِ الدَّجَّالَ وَعَدْلِهِ بَيْنَ النَّاسِ وَمَكْثِهِ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعِينَ سَنَةً ثُمَّ يُتَوَفَّى وَيُصَلِّي عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ باب: اللہ تعالیٰ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونے، دجال کو قتل کرنے ، لوگوں کے درمیان عدل و انصاف کرنے ، زمین میں چالیس برس تک قیام کرنے، پھر ان کے وفات پانے اور مسلمانوں کا ان کی نماز جنازہ ادا کرنے کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا يَزِيدُ أَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ حَنْظَلَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَنْزِلُ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ فَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ وَيَمْحُو الصَّلِيبَ وَتُجْمَعُ لَهُ الصَّلَاةُ وَيُعْطِي الْمَالَ حَتَّى لَا يَقْبَلَهُ وَيَضَعُ الْخِرَاجَ وَيَنْزِلُ الرَّوْحَاءَ وَيَحُجُّ مِنْهَا أَوْ يَعْتَمِرُ أَوْ يَجْمَعُهُمَا“ قَالَ وَتَلَا أَبُو هُرَيْرَةَ {وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا} فَزَعَمَ حَنْظَلَةُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ يُؤْمِنُ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ عِيسَى فَلَا أَدْرِي هَذَا كُلُّهُ حَدِيثُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ شَيْءٌ قَالَهُ أَبُو هُرَيْرَةَسیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے زمین پر نازل ہوں گے، خنزیر کو قتل کر دیں گے، صلیب کو مٹا دیں گے، ان کی آمد پر نماز با جماعت اداکی جائے گی، وہ لوگوں میں اس قدر مال و دولت تقسیم کریں گے کہ بالآخر کوئی مال قبول نہیں کرے گا، وہ جزیہ کو ختم کر دیں گے اور وہ روحاء مقام پر اتر کر وہاں سے حج یا عمرے یا دونوں کا احرام باندھ کر روانہ ہوں گے۔ پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی: {وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتَابِ اِلَّا لَیُوْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ وَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَکُوْنُ عَلَیْہِمْ شَہِیْدًا۔}(سورۂ نساء: ۱۵۹) (اور تمام اہل کتاب عیسیٰ علیہ السلام پر ان کی وفات سے پہلے پہلے ایمان لے آئیں گے اور وہ قیامت کے دن ان سب پر گواہ ہوں گے)۔ حنظلہ کا خیال ہے کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس طرح کہا تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام کی وفات سے پہلے ان پر ایمان لے آئیں گے، اب میں نہیں جانتا کہ یہ سارے الفاظ حدیث نبوی کے ہیں یا سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے۔