الفتح الربانی
بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة— قیامت سے قبل ظاہر ہونے والی بڑی علامتوں کا بیان
فَصِّلُّ فِي ذِكْرِ أحَادِيثَ جَامِعَةٍ لِقِصَّةِ خُروج الدَّجَّالِ وَمَكْثِهِ فِي الْأَرْضِ وَنُزُولِ نَبِيِّ اللَّهِ عِيسَى بْنِ مَرْیَمَ عَلَيْهِ ٱلسَّلَامُ وَقَتْلِهِ إِيَّاهُ وَظُهُورٍ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ ثُمَّ مَلاكِهِمْ وَتَمَتَّعِ النَّاسِ فِي مُدَّةِ عِيسَى عَلَيْهِ ٱلسَّلَامُ ثُمَّ ذَهَابِ أَهْلِ الْخَيْرِ وَالْإِيْمَانِ وَبَقَاءِ شِرَارِ النَّاسِ ثُمَّ النَّفْخِ فِي الصُّوْرِ وَبَعْثِ مَنْ فِي الْقُبُورِ باب: ان احادیث کا تذکرہ، جن میں دجال کے ظہور ، زمین میں اس کے قیام کی مدت، عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور ان کا دجال کو قتل کرنے، یا جوج ماجوج کے ظہور اور ان کی ہلاکت، عیسیٰ علیہ السلام کے دنوـں میں لوگوں کی خوش حالی اور پھر اہلِ خیر و اہلِ ایمان کے فوت ہو جانے اور بد ترین لوگوں کے باقی رہ جانے، پھر صور پھونکے جانے اور قبر والوں کے جی اٹھنے کا بیان ہے
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي فَقَالَ لِي ”مَا يُبْكِيكِ“ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَكَرْتُ الدَّجَّالَ فَبَكَيْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنْ يَخْرُجِ الدَّجَّالُ وَأَنَا حَيٌّ كَفَيْتُكُمُوهُ وَإِنْ يَخْرُجِ الدَّجَّالُ بَعْدِي فَإِنَّ رَبَّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ بِأَعْوَرَ إِنَّهُ يَخْرُجُ فِي يَهُودِيَّةِ أَصْبَهَانَ حَتَّى يَأْتِيَ الْمَدِينَةَ فَيَنْزِلُ نَاحِيَتَهَا وَلَهَا يَوْمَئِذٍ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْهَا مَلَكَانِ فَيَخْرُجُ إِلَيْهِ شِرَارُ أَهْلِهَا يَأْتِي الشَّامَ مَدِينَةً بِفِلَسْطِينَ بِبَابِ لُدٍّ“ وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ مَرَّةً ”حَتَّى يَأْتِيَ فِلَسْطِينَ بَابَ لُدٍّ“ ”فَيَنْزِلُ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ فَيَقْتُلُهُ ثُمَّ يَمْكُثُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعِينَ سَنَةً إِمَامًا عَدْلًا وَحَكَمًا مُقْسِطًا“سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے، میں اس وقت رو رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: تم کیوں رو رہی ہو؟ کیا بات ہے؟ میں نے کہا: اللہ کے رسول ! دجال کا فتنہ یاد آنے پر رو رہی ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر میری زندگی میں دجال آ گیا تو میں اس کا مقابلہ کرنے کے لیے تمہاری طرف سے کافی ہوں گا اور اگر وہ میرے بعد نمودار ہوا تو اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت کرے گا اور یاد رکھو کہ تمہارا رب کانا نہیں ہے، وہ اصبہان کے یہودیوں میں ظاہر ہوگااور مدینہ منورہ کی طرف آ کر اس کے ایک کنارے پر اترے گا، ان دنوں مدینہ منورہ کے سات دروازے ہوں گے، اس کی حفاظت کے لیے ہر دروازے پر دو دو فرشتے مامور ہوں گے، مدینہ منورہ کے بد ترین لوگ نکل کر اس کے ساتھ جا ملیں گے، پھر وہ شا م میں فلسطین شہر کے بَابِ لُدّ کے پاس جائے گا، اتنے میں عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوکر اسے قتل کر دیں گے، اس کے بعد عیسیٰ علیہ السلام زمین پر ایک عادل اور مصنف حکمران کی حیثیت سے چالیس برس گزاریں گے۔