حدیث نمبر: 13008
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا طَوِيلًا عَنِ الدَّجَّالِ فَقَالَ فِيمَا يُحَدِّثُنَا قَالَ ”تَأْتِي الدَّجَّالُ وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْهِ أَنْ يَدْخُلَ نِقَابَ الْمَدِينَةِ فَيَخْرُجُ إِلَيْهِ رَجُلٌ يَوْمَئِذٍ وَهُوَ خَيْرُ النَّاسِ أَوْ مِنْ خَيْرِهِمْ فَيَقُولُ أَشْهَدُ أَنَّكَ الدَّجَّالُ الَّذِي حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَهُ فَيَقُولُ الدَّجَّالُ أَرَأَيْتُمْ إِنْ قَتَلْتُ هَذَا ثُمَّ أَحْيَيْتُهُ أَتَشُكُّونَ فِي الْأَمْرِ فَيَقُولُونَ لَا فَيَقْتُلُهُ ثُمَّ يُحْيِيهِ فَيَقُولُ حِينَ يَحْيَا وَاللَّهِ مَا كُنْتُ قَطُّ أَشَدَّ بَصِيرَةً فِيكَ مِنِّي الْآنَ قَالَ فَيُرِيدُ قَتْلَهُ الثَّانِيَةَ فَلَا يُسَلَّطُ عَلَيْهِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں دجال کے بارے طویل حدیث بیان کی، اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا: جب دجال آئے گا تو مدینہ منورہ کے راستوں میں داخل ہونا اس پر حرام ہوگا، اس دور کا افضل ترین آدمی دجال کی طرف جا کر اس سے کہے گا: میں شہادت دیتا ہوں کہ تو وہی دجال ہے، جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں خبردار کر گئے ہیں، یہ سن کر دجال لوگوں سے کہے گا: کیا خیال ہے اگر میں اس شخص کو قتل کردوں اور پھر اسے زندہ کر دوں تو کیا تم میرے معاملے پھر بھی کوئی شک کرو گے؟ وہ کہیں گے: نہیں۔ چنانچہ دجال اس آدمی کو قتل کر کے زندہ کر دے گا، وہ آدمی زندہ ہونے کے بعد کہے گا: اللہ کی قسم! مجھے تیرے دجال ہونے کے متعلق جس قدر اب بصیرت ہے، اتنی تو پہلے بھی نہیں تھی، چنانچہ دجال اسے دوبارہ قتل کرنے کی کوشش کرے گا، لیکن وہ اسے قتل نہیں کر سکے گا۔

وضاحت:
فوائد: … قتل کرکے دوبارہ زندہ کرنے کے معاملے میں دجال کے اختیارات محدود ہوں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة / حدیث: 13008
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1882، 7132، ومسلم: 2938، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11318 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11338»