حدیث نمبر: 13004
وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لَأَنَا أَعْلَمُ بِمَا مَعَ الدَّجَّالِ مِنَ الدَّجَّال، مَعَهُ نَهْرَانِ، يَجْرِيَانِ أَحَدُهُمَا رَأْيَ الْعَيْنِ مَاءٌ أَبْيَضُ وَالآخَرُ رَأْيَ الْعَيْنِ نَارٌ تَأَجَّجُ فَإِنْ أَدْرَكَنَّ وَاحِدًا مِنْكُمْ فَلْيَأْتِ النَّهْرَ الَّذِي يَرَاهُ نَارًا فَلْيُغْمِضْ، ثُمَّ لْيُطَاْطِئْ رَأْسَهُ فَلْيَشْرَبْ، فَإِنَّهُ مَاءٌ بَارِدٌ، وَإِنَّ الدَّجَّالَ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ الْيُسْرَى عَلَيْهَا ظَفَرَةٌ غَلِيظَةٌ، مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ’’كَافِرٌ‘‘ يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ كَاتِبٌ وَغَيْرُ كَاتِبٍ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں جانتا ہوں کہ دجال کے پاس کیا کچھ ہو گا،اس کے پاس دو بہتی ہوئی نہریں ہوں گی، ایک کا پانی بظاہر سفید ہوگا اور دوسری نہر بظاہر دہکتی ہوئی آگ ہوگی، اگر تم میں سے کسی کو ان حالات سے سابقہ پڑ جائے تو وہ اس نہر میں داخل ہوجائے،جسے وہ آگ دیکھ رہا ہو، وہ آنکھیں بند کر کے اور سر جھکا کر اس سے نوش کر لے، وہی ٹھنڈا پانی ہوگا، دجال کی بائیں آنکھ مٹی ہوئی ہو گی، اس پر موٹی سی جھلی ہو گی اوراس کی آنکھوں کے درمیان کَافِرٌ لکھا ہوا ہو گا، ہر پڑھا لکھا اور ان پڑھ مومن اس لفظ کو پڑھ لے گا۔

وضاحت:
فوائد: … جو بظاہر آگ نظر آئے گی، وہی حقیقت میں باعث ِ تسکین مقام ہو گا، اس لیے مؤمن کو چاہیے ہو گا کہ وہ اپنی آنکھوں سے دھوکہ نہ کھائے، بلکہ ایمان اور شرعی تقاضوں کو سامنے رکھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة / حدیث: 13004
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2934، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23279 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23668»