حدیث نمبر: 13002
وَعَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ: رَأَيْتُ رَجُلًا بِالْمَدِينَةِ وَقَدْ طَافَ النَّاسُ بِهِ وَهُوَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَسَمِعْتُهُ وَهُوَ يَقُولُ: ”إِنَّ مَنْ بَعْدَكُمُ الْكَذَّابَ الْمُضِلَّ وَإِنَّ رَأْسَهُ مِنْ بَعْدِهِ حُبُكٌ حُبُكٌ حُبُكٌ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَإِنَّهُ سَيَقُولُ أَنَا رَبُّكُمْ فَمَنْ قَالَ: لَسْتَ رَبَّنَا، لَكِنْ رَبُّنَا اللَّهُ عَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا وَإِلَيْهِ أَنَبْنَا نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّكَ لَمْ يَكُنْ لَهُ عَلَيْهِ سُلْطَانٌ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

ابو قلابہ کہتے ہیں: میں نے مدینہ منورہ میں ایک آدمی کو دیکھا کہ لوگ ا س کے ارد گرد جمع تھے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہتے ہوئے احادیث بیان کر رہا تھا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک صحابی تھا، پھر میں نے اسے یہ بیان کرتے ہوئے سنا: تمہارے بعد ایک گمراہ کرنے والا جھوٹا آدمی آئے گا، اس کے سر کے بال پیچھے سے گھونگریالے ہوں گے، گھونگریالے، گھونگریالے، اور وہ کہے گا کہ وہ تمہارا ربّ ہے، جس نے اس سے کہا: تو ہمارا رب نہیں ہے، ہمارا رب تو اللہ ہے، ہم نے اسی پر توکل کیا، اسی کی طرف رجوع کیا اور ہم تیرے شر سے اسی اللہ کی پناہ چاہتے ہیں، تو کذاب کا اس پر کوئی بس نہیں چلے گا۔

وضاحت:
فوائد: … جب مؤمن کا دجال سے سامنا ہو جائے تو وہ یہ دعا پڑھے: لَسْتَ رَبَّنَا، لٰکِنْ رَبُّنَا اللّّٰہُ عَلَیْہِ تَوَکَّلْنَا وَاِلَیْہِ اَنَبْنَا نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شَرِّکَ۔
اس دعا کی برکت سے وہ دجال کے تسلط سے محفوظ ہو جائے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة / حدیث: 13002
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23159 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23546»