حدیث نمبر: 13000
وَعَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ كُنَّا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَذَكَرُوا الدَّجَّالَ فَقَالُوا إِنَّهُ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ك ف ر قَالَ مَا تَقُولُونَ قَالَ يَقُولُونَ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ك ف ر قَالَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَمْ أَسْمَعْهُ قَالَ ذَلِكَ وَلَكِنْ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَمَّا إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَانْظُرُوا إِلَى صَاحِبِكُمْ وَأَمَّا مُوسَى فَرَجُلٌ آدَمُ جَعْدٌ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ مَخْطُومٍ بِخُلْبَةٍ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ إِذَا انْحَدَرَ فِي الْوَادِي يُلَبِّي“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

مجاہد کہتے ہیں: ہم سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ لوگوں نے دجال کا ذکر چھیڑ دیا اورکہا: اس کی آنکھوں کے درمیانی یعنی پیشانی پر ک ف ر لکھا ہوگا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تم کیا کہہ رہے ہو؟ انھوں نے کہا: ہم کہہ رہے ہیں کہ اس کی آنکھوں کے درمیان ک ف ر لکھا ہوگا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ نہیں سنا، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ: اگر ابراہیم علیہ السلام کو دیکھنا چاہتے ہو تو مجھے دیکھ لو اور موسیٰ علیہ السلام گندمی رنگ اور گھنگریالے بالوں والے تھے، میں دیکھتا ہوں کہ کھجور کے پتوں کی بنی ہوئی وہ مہار والے ایک سرخ اونٹ پر سوار تلبیہ کہتے ہوئے وادی میں اتر رہے ہیں۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة / حدیث: 13000
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1555، 5913، ومسلم: 166 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2501 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2501»