الفتح الربانی
بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة— قیامت سے قبل ظاہر ہونے والی بڑی علامتوں کا بیان
اخبارُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِخُرُوجِ الدَّجَّالِ وَالْمَكَانِ الَّذِي يَخْرُجُ مِنْهُ وَذِكْرُ أَوْصَافِهِ وَأَتْبَاعِهِ وَفَتَنَتِهِ وَالتَّحْذِيرُ مِنْهُ وَغَيْرُ ذَلِكَ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دجال کے ظہور کی خبر دینے اور اس کی جائے ظہور، اوصاف، پیروکار، فتنے اور اس سے ڈرانے وغیرہ کا بیان
وَعَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ بَعْدَ نُوحٍ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَ الدَّجَّالَ قَوْمَهُ وَإِنِّي أُنْذِرْكُمُوهُ“ قَالَ فَوَصَفَهُ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ قَالَ ”وَلَعَلَّهُ يُدْرِكُهُ بَعْضُ مَنْ رَآنِي أَوْ سَمِعَ كَلَامِي“ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ قُلُوبُنَا يَوْمَئِذٍ أَمِثْلُهَا الْيَوْمَ قَالَ ”أَوْ خَيْرٌ“سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نوح علیہ السلام کے بعد آنے والے ہر نبی نے اپنی اپنی قوم کو دجال سے خبردا رکیا اور میں بھی تمہیں اس سے باخبر کرتا ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں ہمیں بتاتے ہوئے فرمایا: ہوسکتا ہے کہ مجھے دیکھنے والا یا میری بات سننے والا کوئی آدمی بھی اسے پا لے۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! ان دنوں ہمارے دلوں کی کیفیت کیا ہوگی؟ کیا ایسی جیسے آج کل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یا اس سے بہتر؟