حدیث نمبر: 12996
وَعَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ بَعْدَ نُوحٍ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَ الدَّجَّالَ قَوْمَهُ وَإِنِّي أُنْذِرْكُمُوهُ“ قَالَ فَوَصَفَهُ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ قَالَ ”وَلَعَلَّهُ يُدْرِكُهُ بَعْضُ مَنْ رَآنِي أَوْ سَمِعَ كَلَامِي“ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ قُلُوبُنَا يَوْمَئِذٍ أَمِثْلُهَا الْيَوْمَ قَالَ ”أَوْ خَيْرٌ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نوح علیہ السلام کے بعد آنے والے ہر نبی نے اپنی اپنی قوم کو دجال سے خبردا رکیا اور میں بھی تمہیں اس سے باخبر کرتا ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں ہمیں بتاتے ہوئے فرمایا: ہوسکتا ہے کہ مجھے دیکھنے والا یا میری بات سننے والا کوئی آدمی بھی اسے پا لے۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! ان دنوں ہمارے دلوں کی کیفیت کیا ہوگی؟ کیا ایسی جیسے آج کل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یا اس سے بہتر؟

وضاحت:
فوائد: … جو آدمی جسمانی آزمائشوں کی پروا کیے بغیر اور دجال کے شعبدوں کو جھٹلاتے ہوئے فتنۂ دجال کا مقابلہ کر کے اپنے دین پر برقرار رہے گا، وہ راسخ الایمان ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة / حدیث: 12996
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن، أخرجه ابوداود: 4756، والترمذي: 2234، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1693 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1693»