حدیث نمبر: 12989
وَعَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ الْأَزْدِيِّ قَالَ ذَهَبْتُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ فِي الدَّجَّالِ وَلَا تُحَدِّثْنَا عَنْ غَيْرِهِ وَإِنْ كَانَ مُصَدَّقًا قَالَ خَطَبَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”أَنْذَرْتُكُمُ الدَّجَّالَ ثَلَاثًا فَإِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِلَّا قَدْ أَنْذَرَهُ أُمَّتَهُ وَإِنَّهُ فِيكُمْ أَيُّتُهَا الْأُمَّةُ وَإِنَّهُ جَعْدٌ آدَمُ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ مَعَهُ جَنَّةٌ وَنَارٌ فَنَارُهُ جَنَّةٌ وَجَنَّتُهُ نَارٌ وَمَعَهُ جَبَلٌ مِنْ خُبْزٍ وَنَهْرٌ مِنْ مَاءٍ وَإِنَّهُ يُمْطِرُ الْمَطَرَ وَلَا يَنْبُتُ الشَّجَرُ وَإِنَّهُ يُسَلَّطُ عَلَى نَفْسٍ فَيَقْتُلُهَا وَلَا يُسَلَّطُ عَلَى غَيْرِهَا وَإِنَّهُ يَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا يَبْلُغُ فِيهَا كُلَّ مَنْهَلٍ وَلَا يَقْرُبُ أَرْبَعَةَ مَسَاجِدَ مَسْجِدَ الْحَرَامِ وَمَسْجِدَ الْمَدِينَةِ وَمَسْجِدَ الطُّورِ وَمَسْجِدَ الْأَقْصَى وَمَا يَشْبَهُ عَلَيْكُمْ فَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

جنادہ بن ابی امیہ ازدی کہتے ہیں: میں اور ایک انصاری شخص، ایک صحابی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ہم نے ان سے کہا:آپ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دجال کے متعلق سنی ہوئی کوئی حدیث بیان کریں، آپ نے کسی اور سے بیان نہیں کرنا، اگرچہ وہ تصدیق شدہ ہو، انھوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایک خطبہ دیا اور اس میں فرمایا: میں تمہیں دجال سے با خبر کر چکاہو، یہ جملہ تین دفعہ فرمایا، مجھ سے پہلے ہر نبی نے اپنی اپنی امت کو اس سے ڈرایا اور خبردار کیا ہے، لیکن اے میری امت! وہ تم میں نکلے گا، اس کے بال گھنگریالے اور اس کا رنگ گندمی ہو گا اور اس کی ایک آنکھ مٹی ہوئی ہوگی، اس کے پاس ایک جنت ہو گی اور ایک جہنم۔ لیکن حقیقت میں اس کی جہنم ،جنت ہو گی اور اس کی جنت ،جہنم ہوگی۔ اس کے پاس روٹیوں کا ایک پہاڑ ہوگا اور پانی کی ایک نہرہوگی، وہ بارش برسا کر دکھائے گا، لیکن اس سے درخت نہیں اگیں گے، اسے ایک آدمی کو قتل کرنے کی طاقت دی جائے گی، اس کے سوا اس کو اس قسم کی طاقت نہیں دی جائے گی، وہ زمین میں چالیس دن گزارے گا اور ہر ہر جگہ پہنچے گا، البتہ اِن چار مساجد کے قریب نہیں جا سکے گا: مسجد حرام، مسجد نبوی، مسجد طور اور مسجد اقصیٰ۔ وہ تمہیں جتنے شبہات میں بھی ڈال دے، تم یاد رکھنا کہ تمہارا ربّ کانا نہیں ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة / حدیث: 12989
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه ابن ابي شيبة: 15/ 147 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23685 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24084»