حدیث نمبر: 12988
وَعَنْ سَفِينَةَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”أَلَا إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِلَّا وَقَدْ حَذَّرَ الدَّجَّالَ أُمَّتَهُ هُوَ أَعْوَرُ عَيْنِهِ الْيُسْرَى بِعَيْنِهِ الْيُمْنَى ظَفَرَةٌ غَلِيظَةٌ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ يَخْرُجُ مَعَهُ وَادِيَانِ أَحَدُهُمَا جَنَّةٌ وَالْآخَرُ نَارٌ فَنَارُهُ جَنَّةٌ وَجَنَّتُهُ نَارٌ مَعَهُ مَلَكَانِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ يَشْبَهَانِ نَبِيَّيْنِ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ لَوْ شِئْتُ سَمَّيْتُهُمَا بِأَسْمَائِهِمَا وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمَا وَاحِدٌ مِنْهُمَا عَنْ يَمِينِهِ وَالْآخَرُ عَنْ شِمَالِهِ وَذَلِكَ فِتْنَةٌ فَيَقُولُ الدَّجَّالُ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ أَلَسْتُ أُحْيِي وَأُمِيتُ فَيَقُولُ لَهُ أَحَدُ الْمَلَكَيْنِ كَذَبْتَ مَا يَسْمَعُهُ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ إِلَّا صَاحِبُهُ فَيَقُولُ لَهُ صَدَقْتَ فَيَسْمَعُهُ النَّاسُ فَيَظُنُّونَ إِنَّمَا يُصَدِّقُ الدَّجَّالَ وَذَلِكَ فِتْنَةٌ ثُمَّ يَسِيرُ حَتَّى يَأْتِيَ الْمَدِينَةَ فَلَا يُوذَنُ لَهُ فِيهَا فَيَقُولُ هَذَا قَرْيَةُ ذَلِكَ الرَّجُلِ ثُمَّ يَسِيرُ حَتَّى يَأْتِيَ الشَّامَ فَيُهْلِكُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَ عَقَبَةِ أَفِيقَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

مولائے رسول سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: مجھ سے قبل جو نبی بھی آیا، اس نے اپنی امت کو دجال سے خبردار کیا ہے، وہ بائیں کانی آنکھ والا ہوگا اور اس کی دائیں آنکھ پر موٹی سی جھلی ہو گی، اس کی آنکھوں کے درمیان کَافِر کا لفظ لکھا ہوگا، اس کے پاس دو وادیاں ہوں گی، ایک اس کی جنت اور دوسری اس کی جہنم ہوگی، مگر اس کی جہنم درحقیقت جنت اور اس کی جنت درحقیقت جہنم ہوگی، اس کے ساتھ دو فرشتے ہوں گے، جو دو نبیوں کے ہم شکل ہوں گے، اگر میں چاہوں تو ان کے اور ان کے آباء کے نام بیان کرسکتا ہوں، ایک دائیں طرف ہوگا اور دوسرا بائیں طرف، یہ بھی ایک آزمائش ہوگی، دجال لوگوں سے کہے گا: کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ کیا میں زندہ کرنے اور مارنے پر قادر نہیں ہوں؟ ایک فرشتہ کہے گا: تو جھوٹ بول رہا ہے، اس بات کو صرف دوسرا فرشتہ ہی سن سکے گا، لوگوں میں سے کوئی نہیں سنے گا، اس کی بات سن کر دوسرا فرشتہ کہے گا: تو نے سچ کہا، اس بات کولوگ سنیں گے تو سہی، لیکن وہ سمجھیں گے کہ وہ فرشتہ دجال کی بات کی تصدیق کر رہا ہے، یہ بھی لوگوں کے لیے ایک آزمائش ہوگی، پھر دجال مدینہ منورہ کی طرف آئے گا، لیکن اسے مدینہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ملے گی، وہ کہے گا کہ یہ تو اس آدمی کا شہر ہے، پھر وہ وہاں سے چلے گا اور شام کی سرزمین میں پہنچ جائے گا، اللہ تعالیٰ اسے وہاں اَفِیْق کی گھاٹی میں ہلاک کرے گا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة / حدیث: 12988
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «ضعيف بھذه السياقة، تفرد به حشرج بن نباتة عن سعيد بن جمھان، وقد اشار بعض اھل العلم الي انه يقع لھما في احاديثھما غرائب ومناكير، وقد وقع لھما شيء من ھذا في ھذا الحديث، أخرجه الطيالسي: 1106، وابن ابي شيبة: 15/ 137، والطبراني في الكبير : 6445، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21929 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22275»