حدیث نمبر: 12987
وَعَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ قَالَ قَالَ لِي أَبُو سَعِيدٍ يَعْنِي الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ هَلْ يُقِرُّ الْخَوَارِجُ بِالدَّجَّالِ فَقُلْتُ لَا فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنِّي خَاتَمُ أَلْفِ نَبِيٍّ وَأَكْثَرَ مَا بُعِثَ نَبِيٌّ يُتَّبَعُ إِلَّا قَدْ حَذَّرَ أُمَّتَهُ الدَّجَّالَ وَإِنِّي قَدْ بُيِّنَ لِي مِنْ أَمْرِهِ مَا لَمْ يُبَيَّنْ لِأَحَدٍ وَإِنَّهُ أَعْوَرُ وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ وَعَيْنُهُ الْيُمْنَى عَوْرَاءُ جَاحِظَةٌ وَلَا تَخْفَى كَأَنَّهَا نُخَامَةٌ فِي حَائِطٍ مُجَصَّصٍ وَعَيْنُهُ الْيُسْرَى كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ مَعَهُ مِنْ كُلِّ لِسَانٍ وَمَعَهُ صُورَةُ الْجَنَّةِ خَضْرَاءُ يَجْرِي فِيهَا الْمَاءُ وَصُورَةُ النَّارِ سَوْدَاءُ تَدْخَنُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

ابو و دک سے روایت ہے کہ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: کیا خوارج دجال کے ظہور کا اقرار کرتے ہیں؟ میں نے کہا: جی نہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ایک ہزار بلکہ اس سے زائد نبیوں کے بعد آیا ہوں، ہر نبی، جس کی پیروی کی گئی، نے اپنی امت کو دجال سے خبردار کیا ہے، لیکن مجھے اس کی ایسی ایسی علامتیں بیان کی گئی ہیں جو کسی دوسرے نبی کو نہیں بتلائیں گئی تھیں، (یاد رکھو کہ) دجال کانا ہو گا اور تمہارا رب کانا نہیں ہے،دجال کی داہنی آنکھ بھینگی اور اس طرح نمایاں ہوگی جیسے کسی چونہ گچ دیوار پر بلغم یا کھنکار کا نشان ہو اور اس کی بائیں آنکھ چمکتے ہوئے تارے کی مانند ہوگی، ہر زبان بولنے والے اس کے ساتھ ہوں گے، اس کے پاس جنت کے مشابہ سرسبز باغ ہوگا، جس میں پانی بہہ رہا ہوگا اور جہنم کے مشابہ بھی ایک سیاہ چیز ہو گی، جو دھواں چھوڑ رہی ہو گی۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة / حدیث: 12987
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف مجالد بن سعيد وعبد المتعال بن عبد الوھاب، أخرجه الحاكم: 2/ 597، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11752 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11774»