حدیث نمبر: 12985
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَشْرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَلَقٍ مِنْ أَفْلَاقِ الْحَرَّةِ وَنَحْنُ مَعَهُ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”نِعْمَتِ الْأَرْضُ الْمَدِينَةُ إِذَا خَرَجَ الدَّجَّالُ، عَلَى كُلِّ نِقَبٍ مِنْ أَنْقَابِهَا مَلَكٌ لَا يَدْخُلَهَا، فَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ رَجَفَتِ الْمَدِينَةُ بِأَهْلِهَا ثَلَاثَ رَجَفَاتٍ، لَا يَبْقَى مُنَافِقٌ وَلَا مُنَافِقَةٌ إِلَّا خَرَجَ إِلَيْهِ وَأَكْثَرُ يَعْنِي مَنْ يَخْرُجُ إِلَيْهِ النِّسَاءُ وَذَلِكَ يَوْمُ التَّخْلِيصِ، وَذَلِكَ يَوْمٌ تَنْفِي الْمَدِينَةُ الْخَبَثَ كَمَا تَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ، يَكُونُ مَعَهُ سَبْعُونَ أَلْفًا مِنَ الْيَهُودِ عَلَى كُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ سَاجٌ وَسَيْفٌ مُحَلًّى فَتُضْرَبُ رَقَبَتُهُ بِهَذَا الضَّرْبِ الَّذِي عِنْدَ مُجْتَمَعِ السُّيُولِ“ ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”مَا كَانَتْ فِتْنَةٌ وَلَا تَكُونُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ أَكْبَرَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ، وَلَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ حَذَّرَ أُمَّتَهُ، وَلَأُخْبِرَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مَا أَخْبَرَهُ نَبِيٌّ أُمَّتَهُ قَبْلِي“ ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى عَيْنِهِ ثُمَّ قَالَ: ”أَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ بِأَعْوَرَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حرّہ کی ایک ہموار جگہ کی طرف جھانکا، ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مدینہ منورہ کی سر زمین بہت اچھی ہے، جب دجال کا ظہور ہوگا تو اس کے ہر راستے پر ایک فرشتہ ہوگا، اس وجہ سے وہ اس میں داخل نہیں ہو سکے گا، جب وہ وقت آئے گا تو مدینہ منورہ اپنے اوپر موجودہ لوگوں کو تین مرتبہ جھٹکے دے گا، اس وجہ سے ہر منافق مرد او رعورت نکل کر دجال کی طرف چلا جائے گا، اس کی طرف جانے والوں میں عورتوں کی تعداد زیادہ ہوگی، وہ یَوْمُ التَّخْلِیْصِ ہوگا، اس دن مدینہ اپنے اندر موجود خبیث لوگوں کو اس طرح الگ کردے گا، جیسے آگ لوہے کی میل کچیل کو دور کر دیتی ہے، دجال کے ساتھ ستر ہزار یہودی ہوں گے، ہر ایک پر ایک مخصوص تاج اور ہر ایک کے پاس خوبصورت تلوار ہوگی، اس کو سیلابوں کے جمع ہونے والی وادی میں قتل کر دیا جائے گا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ آج تک ایسا فتنہ برپا ہوا اور نہ قیامت تک ہو گا، جو دجال کے فتنے سے سنگین ہو، ہر نبی نے اپنی اپنی امت کو اس دجال سے ڈرایا ہے، لیکن میں تمہیں اس کی ایسی علامت بتلاتا ہوں کہ جو مجھ سے پہلے کسی نبی نے اپنی امت کو نہیں بتلائی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ آنکھ پر رکھ کر فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة / حدیث: 12985
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح بطرقه وشواھده ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14113 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14158»