الفتح الربانی
بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة— قیامت سے قبل ظاہر ہونے والی بڑی علامتوں کا بیان
اخبارُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِخُرُوجِ الدَّجَّالِ وَالْمَكَانِ الَّذِي يَخْرُجُ مِنْهُ وَذِكْرُ أَوْصَافِهِ وَأَتْبَاعِهِ وَفَتَنَتِهِ وَالتَّحْذِيرُ مِنْهُ وَغَيْرُ ذَلِكَ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دجال کے ظہور کی خبر دینے اور اس کی جائے ظہور، اوصاف، پیروکار، فتنے اور اس سے ڈرانے وغیرہ کا بیان
حدیث نمبر: 12979
عَنْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”أَنَّ الدَّجَّالَ يَخْرُجُ مِنْ أَرْضٍ بِالْمَشْرِقِ يُقَالُ لَهَا خُرَاسَانُ، يَتْبَعُهُ أَقْوَامٌ كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مشرق کی جہت میں واقع خراسان نامی جگہ سے دجال نمودار ہوگا اور ایسے لوگ اس کی پیروی کریں گے جن کے چہرے ڈھالوں کی طرح چوڑے چپٹے ہوں گے۔
وضاحت:
فوائد: … امام عبدا لرحمن مبارکپوری رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: ماوراء النہر اور عراق کے علاقوں کے درمیان خراسان کے معروف علاقے ہیں۔ اب ہرات کو خراسان کہتے ہیں، جس کا بیشتر حصہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشین گوئی میں مذکورہ خراسان کاہے، بالکل ایسے ہی سمجھیں جیسے دمشق کو شام کہتے ہیں۔ (حالانکہ احادیث میں مذکورہ شام جزیرہ نماعرب کا شمالی علاقہ ہے، جوموجودہ شام، انطاکیہ سمیت، اردن اور فلسطین سے عسقلان پر مشتمل ہے۔) رہا مسئلہ اس کی پیروی کرنے والے اس حدیث میںمذکورہ لوگوں کا، تو یہ پیدائشی اوصاف ترک اور ازبک لوگوںمیں پائے جاتے ہیں۔ (تحفۃ الاحوذی: ۳/ ۲۳۴) جغرافیائی حدود میں تبدیلی کی وجہ سے علاقوں کے قدیم اور جدید ناموں میں اختلاف پایا جا تا رہا ہے۔