الفتح الربانی
بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة— قیامت سے قبل ظاہر ہونے والی بڑی علامتوں کا بیان
تعظيمُ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ وَآمَارَاتُ خُرُوجِهِ باب: فتنہ دجال کے بڑے ہونے اور اس کے ظہور کی علامتوں کا بیان
حدیث نمبر: 12975
عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: لَمَّا فُتِحَتْ اصْطَخْرُ نَادَى مُنَادٍ: أَلَا إِنَّ الدَّجَّالَ قَدْ خَرَجَ، قَالَ: فَلَقِيَهُمُ الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: لَوْلَا مَا تَقُولُونَ لَأَخْبَرْتُكُمْ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”لَا يَخْرُجُ الدَّجَّالُ حَتَّى يَذْهَلَ النَّاسُ عَنْ ذِكْرِهِ، وَحَتَّى تَتْرُكَ الْأَئِمَّةُ ذِكْرَهُ عَلَى الْمَنَابِرِ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
راشد بن سعد کہتے ہیں: جب اصطخر فتح ہوا، تو ایک مُنادِی نے یہ آواز دی: خبردار! دجال کا ظہور ہوچکا ہے، یہ سن کر سیدنا مصعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ لوگوں کو جاکرملے اور کہا:جو کچھ تم کہہ رہے ہو، ایسا اگر نہ ہوتا تو میں تمہیں بتلاتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ: اس وقت تک دجال کا ظہور نہیں ہوگا، جب تک ایسا نہ ہو جائے کہ لوگ اس کے ذکر سے مکمل طور پر غافل ہوجائیں اور ائمہ یعنی خطباء حضرات منبروں پر اس کا ذکر کرنا چھوڑ دیں۔