الفتح الربانی
بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة— قیامت سے قبل ظاہر ہونے والی بڑی علامتوں کا بیان
تعظيمُ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ وَآمَارَاتُ خُرُوجِهِ باب: فتنہ دجال کے بڑے ہونے اور اس کے ظہور کی علامتوں کا بیان
حدیث نمبر: 12971
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: ذُكِرَ الدَّجَّالُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ”لَأَنَا لَفِتْنَةُ بَعْضِكُمْ أَخْوَفُ عِنْدِي مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ، وَلَنْ يَنْجُوَ أَحَدٌ مِمَّا قَبْلَهَا إِلَّا نَجَا مِنْهَا، وَمَا صُنِعَتْ فِتْنَةٌ مُنْذُ كَانَتِ الدُّنْيَا صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً إِلَّا لِفِتْنَةِ الدَّجَّالِ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے دجال کا ذکر کیا گیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں دجال کے فتنے کی بہ نسبت تمہارے آپس کے فتنوں یعنی لڑائی جھگڑوں کا زیادہ خطرہ محسوس کرتا ہوں، اور (سنو کہ) جب سے دنیا قائم ہے، اس وقت سے جتنے چھوٹے بڑے فتنے ظہور پذیر ہوئے، وہ سارے کے سارے فتنۂ دجال کی خاطر ہی تھے۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دین کو متاثر کرنے والے بعض فتنوں کو سب سے بڑا فتنہ قرار دیا ہے، مثال کے طور پر: زبان کا فتنہ، منافقوں کا فتنہ، دنیوی مال و دولت کا فتنہ، ریاکاری کا فتنہ۔
درج ذیل حدیث پر غور کریں، جس میں گمراہ کرنے والے حکمرانوں کے فتنے کو دجال سے بڑا فتنہ قرار دیا گیا ہے: سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کُنْتُ مُخَاصِرَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَوْمًا إِلَی مَنْزِلِہِ فَسَمِعْتُہُ یَقُولُ: ((غَیْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُ عَلَی أُمَّتِی مِنْ الدَّجَّالِ۔)) فَلَمَّا خَشِیتُ أَنْ یَدْخُلَ قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللَّہِ! أَیُّ شَیْء ٍ أَخْوَفُ عَلٰی أُمَّتِکَ مِنْ الدَّجَّالِ؟ قَالَ: ((الْأَئِمَّۃَ الْمُضِلِّینَ۔)) … ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھر کی طرف تشریف لے جا رہے تھے، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں چل رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اپنی امت کے بارے میں دجال کی بہ نسبت باقی فتنوں کا ڈر زیادہ ہے۔ مجھے اندیشہ ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اپنے گھر میں داخل ہونے والے ہیں، تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کو دجال کی بہ نسبت کس چیز کا اپنی امت کے بارے میں سب سے زیادہ ڈر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گمراہ کرنے والے حکمران۔ (مسند احمد: ۵/ ۱۴۵)
اصل بات یہ ہے کہ مسیح دجال کی آزمائش جسمانی ہو گی، ابدی اور سرمدی سعادت کے لیے صبر کے ذریعے اس کو برداشت کرنا ممکن ہو گا، لیکن شرکِ خفی، ریاکاری اور گمراہ حکمرانوں جیسی آزمائشوں کا نتیجہ دنیا میں بے چینی اور آخرت میں خسارہ ہو گا۔
درج ذیل حدیث پر غور کریں، جس میں گمراہ کرنے والے حکمرانوں کے فتنے کو دجال سے بڑا فتنہ قرار دیا گیا ہے: سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کُنْتُ مُخَاصِرَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَوْمًا إِلَی مَنْزِلِہِ فَسَمِعْتُہُ یَقُولُ: ((غَیْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُ عَلَی أُمَّتِی مِنْ الدَّجَّالِ۔)) فَلَمَّا خَشِیتُ أَنْ یَدْخُلَ قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللَّہِ! أَیُّ شَیْء ٍ أَخْوَفُ عَلٰی أُمَّتِکَ مِنْ الدَّجَّالِ؟ قَالَ: ((الْأَئِمَّۃَ الْمُضِلِّینَ۔)) … ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھر کی طرف تشریف لے جا رہے تھے، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں چل رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اپنی امت کے بارے میں دجال کی بہ نسبت باقی فتنوں کا ڈر زیادہ ہے۔ مجھے اندیشہ ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اپنے گھر میں داخل ہونے والے ہیں، تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کو دجال کی بہ نسبت کس چیز کا اپنی امت کے بارے میں سب سے زیادہ ڈر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گمراہ کرنے والے حکمران۔ (مسند احمد: ۵/ ۱۴۵)
اصل بات یہ ہے کہ مسیح دجال کی آزمائش جسمانی ہو گی، ابدی اور سرمدی سعادت کے لیے صبر کے ذریعے اس کو برداشت کرنا ممکن ہو گا، لیکن شرکِ خفی، ریاکاری اور گمراہ حکمرانوں جیسی آزمائشوں کا نتیجہ دنیا میں بے چینی اور آخرت میں خسارہ ہو گا۔