الفتح الربانی
بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة— قیامت سے قبل ظاہر ہونے والی بڑی علامتوں کا بیان
مَا يُصِيبُ النَّاسَ مِنَ الشَّدَّةِ قَبْلَ ظُهُورِ الدَّجَّالِ بثلاث سِنِينَ وَمَا يَفْعَلُهُ مَعَهُمْ وَقَتَ ظُهُورِهِ باب: دجال کے ظہور سے تین سال پہلے لوگوں پر پڑنے والی مشکلات اور اس کے ظہور کے بعد ان کے ساتھ اس کے سلوک کا بیان
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ جَهْدًا يَكُونُ بَيْنَ يَدَيِ الدَّجَّالِ فَقَالُوا أَيُّ الْمَالِ خَيْرٌ يَوْمَئِذٍ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”غُلَامٌ شَدِيدٌ يَسْقِي أَهْلَهُ الْمَاءَ وَأَمَّا الطَّعَامُ فَلَيْسَ“ قَالُوا فَمَا طَعَامُ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَئِذٍ قَالَ ”التَّسْبِيحُ وَالتَّقْدِيسُ وَالتَّحْمِيدُ وَالتَّهْلِيلُ“ قَالَتْ عَائِشَةُ فَأَيْنَ الْعَرَبُ يَوْمَئِذٍ قَالَ ”الْعَرَبُ يَوْمَئِذٍ قَلِيلٌ“سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دجال کے ظہور سے قبل شدت کے دور کی بات کی،صحابہ کرام نے پوچھا: ان دنوں کو نسا مال بہتر ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: طاقت ور غلام، جو اپنے مالکوں کو پانی پلا سکے گا، رہا مسئلہ کھانے کا، تو وہ تو سرے سے ہو گا ہی نہیں۔ صحابہ نے دریافت کیا: تو پھر ان دنوں مومنوں کا کھانا کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی تسبیح ، تقدیس ، تحمید اور تہلیل بیان کرنا۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: ان دنوں عرب کہاں ہوں گے؟ فرمایا: ان دنوں عرب تھوڑے ہوں گے۔