حدیث نمبر: 12968
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَمْكُثُ أَبَوَا الدَّجَّالِ ثَلَاثِينَ عَامًا لَا يُولَدُ لَهُمَا ثُمَّ يُولَدُ لَهُمَا غُلَامٌ أَعْوَرُ أَضَرُّ شَيْءٍ وَأَقَلُّهُ نَفْعًا يَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دجال کے والدین کے ہاں تیس برس تک اولاد نہیں ہوگی، اس کے بعد ان کے ہاں ایک کانا بچہ پیدا ہوگا،وہ زیادہ نقصان والا اور کم نفع والابچہ ہوگا، جب وہ سوئے گا تو اس کی آنکھیں سوئیں گی اور دل جاگتا ہوگا۔

وضاحت:
فوائد: … علامہ ابن اثیر نے النہایہ میں کہا: ابن صیاد ایک یہودی تھا یا ان کے ساتھ ملا جلا رہتا تھا، اس کا نام صاف کہا گیا ہے، اس کے پاس کہانت اور جادو کا علم تھا اور یہ اپنے وقت میں اللہ کے ایمان دار بندوں کے لیے ایک امتحان تھا تاکہ جو ہلاک ہو، دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جو زندہ رہے، دلیل کے ساتھ زندہ رہے، اکثر کہتے ہیں کہ یہ مدینے میںمرا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ واقعہ حرہ کے موقع پر اسے گم پایا گیا اور پھر ملا نہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة / حدیث: 12968
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان ومؤمل بن اسماعيل، أخرجه الترمذي: 2248 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20520 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20794»