الفتح الربانی
بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة— قیامت سے قبل ظاہر ہونے والی بڑی علامتوں کا بیان
خَوَارِقُ الْعَادَاتِ لا بن صَيَّادِ باب: ابن صیاد کے خلافِ عادت امور کا بیان
حدیث نمبر: 12965
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِابْنِ صَائِدٍ ”مَا تَرَى“ قَالَ أَرَى عَرْشًا عَلَى الْبَحْرِ حَوْلَهُ الْحَيَّاتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَرَى عَرْشَ إِبْلِيسَ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابن صائد سے فرمایا: تجھے کیا چیز دکھائی دیتی ہے؟ اس نے کہا: میں سمندر پر ایک تخت دیکھتا ہوں، جس کے ارد گرد سانپ ہوتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ابلیس کا تخت دیکھتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … صحیح مسلم کے الفاظ درج ذیل ہیں: سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: لَقِیَہُ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَأَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ فِی بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِینَۃِ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((أَتَشْہَدُ أَنِّی رَسُولُ اللّٰہِ؟)) فَقَالَ ہُوَ: أَتَشْہَدُ أَنِّی رَسُولُ اللّٰہِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((آمَنْتُ بِاللّٰہِ وَمَلَائِکَتِہِ وَکُتُبِہِ، مَا تَرٰی؟)) قَالَ: أَرٰی عَرْشًا عَلَی الْمَائِ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((تَرٰی عَرْشَ إِبْلِیسَ عَلَی الْبَحْرِ، وَمَا تَرٰی؟)) قَالَ: أَرٰی صَادِقَیْنِ وَکَاذِبًا أَوْ کَاذِبَیْنِ وَصَادِقًا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((لُبِسَ عَلَیْہِ دَعُوہُ۔)) … مدینہ کے راستوں میں سے کسی راستہ میں ابن صیاد سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیدناابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کی ملاقات ہوگئی،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ اس نے کہا: کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ایمان لایا اللہ پر، اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر، اچھا یہ بتا کہ تو کیا کچھ دیکھتا ہے؟ اس نے کہا: میں نے پانی پر تخت دیکھتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو سمندر پر ابلیس کا تخت دیکھتا ہے، تو مزید کیا دیکھتا ہے؟ اس نے کہا: میں دو سچوں اور ایک جھوٹے یا دو جھوٹوں اور ایک سچے کو دیکھتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس پر اس کا معاملہ مشتبہ کر دیاگیا ہے، سو اس کو چھوڑ دو۔