حدیث نمبر: 12963
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ حَجَجْنَا فَنَزَلْنَا تَحْتَ ظِلِّ شَجَرَةٍ وَجَاءَ ابْنُ صَائِدٍ فَنَزَلَ فِي نَاحِيَتِهَا فَقُلْتُ مَا صَبَّ اللَّهُ هَذَا عَلَيَّ قَالَ فَقَالَ يَا أَبَا سَعِيدٍ مَا أَلْقَى مِنَ النَّاسِ يَقُولُونَ لِي إِنِّي الدَّجَّالُ أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”الدَّجَّالُ لَا يُولَدُ لَهُ وَلَا يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ وَلَا مَكَّةَ“ قَالَ قُلْتُ بَلَى وَقَالَ قَدْ وُلِدَ لِي وَقَدْ خَرَجْتُ مِنَ الْمَدِينَةِ وَأَنَا أُرِيدُ مَكَّةَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَكَأَنِّي رَقَّقْتُ لَهُ فَقَالَ وَاللَّهِ إِنَّ أَعْلَمَ النَّاسِ بِمَكَانِهِ لَأَنَا قَالَ قُلْتُ تَبًّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم حج کے لیے گئے اورراستے میں ایک درخت کے نیچے ٹھہرے، ابن صائد بھی آکر اس درخت کے نیچے ایک طرف بیٹھ گیا، میں نے کہا: یہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کیا مصیبت ڈال دی ہے۔ اس نے کہا: ابو سعید! مجھے لوگوں کی طرف سے کس قدر تکلیف دہ باتیں سننا پڑتی ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں دجال ہوں، کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے نہیں سنا کہ: دجال کی اولاد نہیں ہوگی اور وہ مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ میں نہیں جا سکے گا۔ میں نے کہا: جی کیوں نہیں۔ پھر اس نے کہا: میری تو اولاد بھی ہے اور اب میں مدینہ سے نکلا اور مکہ مکرمہ کی طرف جا کر رہوں گا۔ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا: پس اس کی باتین سن کر میرا دل اس کے لیے نرم ہوگیا۔ پھر اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں اس کی جائے ظہور کے متعلق سب سے زیادہ علم رکھتا ہوں۔ تو یہ سن کر میں نے کہا: سارا دن تیرے لیے بربادی ہو۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة / حدیث: 12963
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مطولا مسلم: 2927 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11921 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11945»