الفتح الربانی
بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة— قیامت سے قبل ظاہر ہونے والی بڑی علامتوں کا بیان
دَهَاءُ ابْنِ صَيَّادِ وَإِنْكَارُهُ أَنَّهُ الدَّجَّالُ باب: ابن صیاد کی چالاکی اور اس بات کا انکار کہ وہ دجال ہے
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَقْبَلْنَا فِي جَيْشٍ مِنَ الْمَدِينَةِ قِبَلَ هَذَا الْمَشْرِقِ قَالَ فَكَانَ فِي الْجَيْشِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَيَّادٍ وَكَانَ لَا يُسَايِرُهُ أَحَدٌ وَلَا يُرَافِقُهُ وَلَا يُوَاكِلُهُ وَلَا يُشَارِبُهُ وَيُسَمُّونَهُ الدَّجَّالَ فَبَيْنَمَا أَنَا ذَاتَ يَوْمٍ نَازِلٌ فِي مَنْزِلٍ لِي إِذْ رَآنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَيَّادٍ جَالِسًا فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ إِلَيَّ فَقَالَ يَا أَبَا سَعِيدٍ أَلَا تَرَى إِلَى مَا يَصْنَعُ النَّاسُ لَا يُسَايِرُنِي أَحَدٌ وَلَا يُرَافِقُنِي أَحَدٌ وَلَا يُشَارِبُنِي أَحَدٌ وَلَا يُوَاكِلُنِي أَحَدٌ وَيَدَّعُونِي الدَّجَّالَ وَقَدْ عَلِمْتَ أَنْتَ يَا أَبَا سَعِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِنَّ الدَّجَّالَ لَا يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ“ وَإِنِّي وُلِدْتُ بِالْمَدِينَةِ وَقَدْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّ الدَّجَّالَ لَا يُولَدُ لَهُ“ وَقَدْ وُلِدَ لِي فَوَاللَّهِ لَقَدْ هَمَمْتُ مِمَّا يَصْنَعُ بِي هَؤُلَاءِ النَّاسُ أَنْ آخُذَ حَبْلًا فَأَخْلُوَ فَأَجْعَلَهُ فِي عُنُقِي فَأَخْتَنِقَ فَأَسْتَرِيحَ مِنْ هَؤُلَاءِ النَّاسِ وَاللَّهِ مَا أَنَا بِالدَّجَّالِ وَلَكِنْ وَاللَّهِ لَوْ شِئْتَ لَأَخْبَرْتُكَ بِاسْمِهِ وَاسْمِ أَبِيهِ وَاسْمِ أُمِّهِ وَاسْمِ الْقَرْيَةِ الَّتِي يَخْرُجُ مِنْهَاسیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ہم ایک لشکرمیں مشرق کی جانب واقع ایک شہر سے آئے، اس لشکر میں عبداللہ بن صیاد بھی تھا، کوئی آدمی نہ اس کے ساتھ چلتا تھا، نہ بیٹھتا تھا اور نہ اس کے ساتھ کھانا پینا پسند کرتا تھا اور لوگ اسے دجال کہتے تھے۔ میں ایک دن اپنے گھر میں بیٹھا ہوا تھا کہ عبداللہ بن صیاد نے مجھے دیکھ لیا اور میرے پاس آکر بیٹھ گیا اورکہنے لگا: ابو سعید ! لوگ میرے ساتھ جو سلوک کرتے ہیں، تم دیکھتے ہی ہو، کوئی میرے ساتھ چلنا، بیٹھنا اور کھانا پینا پسند نہیں کرتا اور کہتے بھی مجھے دجال ہیں، ابو سعید! آپ تو جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: دجال مدینہ منورہ میں داخل نہیں ہوسکے گا۔ جبکہ میری تو ولادت ہی مدینہ میں ہوئی اور آپ یہ بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سن چکے ہیں کہ: دجال کی اولاد نہیں ہوگی۔ جبکہ میری تو اولاد بھی ہے، اللہ کی قسم! لوگوں کا یہ رویہ دیکھ کر میں نے ارادہ کیا ہے کہ کسی خلوت والی جگہ جا کر ایک رسی اپنے گلے میں ڈالوں اور اسے گھونٹ دوں اور لوگوں کی باتوں سے راحت پالوں۔ اللہ کی قسم ! میں دجال نہیں ہوں۔ اللہ کی قسمْ اگر تم چاہتے ہو تومیں تم لوگوں کو اس کا ، اس کے والد اور والدہ کے ناموں سے اور جس بستی سے اس کا ظہور ہوگا، اس بستی کے نام سے آپ کو آگاہ کر دیتا ہوں۔