حدیث نمبر: 12961
وَعَنْ مَهْدِيِّ بْنِ عِمْرَانَ الْمَازِنِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ وَسُئِلَ هَلْ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ قِيلَ فَهَلْ كَلَّمْتَهُ قَالَ لَا وَلَكِنْ رَأَيْتُهُ انْطَلَقَ مَكَانَ كَذَا وَكَذَا وَمَعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَأُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ حَتَّى أَتَى دَارًا قَوْرَاءَ فَقَالَ ”افْتَحُوا هَذَا الْبَابَ“ فَفُتِحَ وَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَدَخَلْتُ مَعَهُ فَإِذَا قَطِيفَةٌ فِي وَسْطِ الْبَيْتِ فَقَالَ ”ارْفَعُوا هَذَا الْقَطِيفَةَ“ فَرَفَعُوا الْقَطِيفَةَ فَإِذَا غُلَامٌ أَعْوَرُ تَحْتَ الْقَطِيفَةِ فَقَالَ ”قُمْ يَا غُلَامُ“ فَقَامَ الْغُلَامُ فَقَالَ ”يَا غُلَامُ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ“ قَالَ الْغُلَامُ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ قَالَ ”أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ“ قَالَ الْغُلَامُ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ هَذَا“ مَرَّتَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

مہدی بن عمران مازنی کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابو طفیل رضی اللہ عنہ سے سنا، جبکہ ان سے یہ سوال کیاگیا کہ آیا انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے؟ انہوں نے کہا:جی ہاں، پھر پوچھا گیا کہ آیا تم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کلام بھی کی ہے؟ انہوں نے کہا: جی نہیں، میں نے تو یہ دیکھا کہ آپ فلاں جگہ تشریف لے گئے، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سمیت دیگر کچھ صحابہ بھی آپ کے ساتھ تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک کشادہ گھر تک پہنچے تو فرمایا: یہ دروازہ کھولو۔ سو دروازہ کھولا گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اندر داخل ہوئے، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چلا گیا، کمرہ کے وسط میں ایک چادر پڑی تھی۔ آپ نے فرمایا: اس چادر کو اٹھاؤ۔ پس انھوں نے چادر اٹھائی، اس کے نیچے ایک کانا لڑکا تھا، آپ نے فرمایا: او لڑکے! اٹھ۔ سو وہ کھڑا ہوگیا، آپ نے فرمایا: لڑکے! کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ وہ بولا:اور کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ شہادت دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: ـ کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ وہ پھر بولا: اور کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ شہادت دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا: تم اس کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کرو۔

وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابن صیاد کے متعلق خوف زدہ رہتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہی دجال ہو، آپ نے کئی مرتبہ کوشش کی کہ اس کی بے خبری میں اس کی باتیں سن کر پتہ چل جائے کہ اس کی اصلیت کیا ہے؟
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة / حدیث: 12961
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، مهدي بن عمران لايتابع علي حديثه، وقد جاء ت نحو ھذا الحديث في ابن صياد أحاديث أخري صحيحة ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23796 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24206»