حدیث نمبر: 12957
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ كُنَّا نَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَرَّ بِابْنِ صَيَّادٍ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنِّي قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبْأً“ قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ دُخٌّ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ“ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَهُ قَالَ ”لَا إِنْ يَكُنِ الَّذِي تَخَافُ فَلَنْ تَسْتَطِيعَ قَتْلَهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جارہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر ابن صیاد کے پاس سے ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہارے لیے ذہن میں ایک چیز چھپائی ہے، تو بتا وہ کیا ہے؟ ابن صیاد نے کہا: وہ دُخ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ذلیل ہو جا، تو ہر گز اپنی حیثیت سے آگے نہیں بڑھ سکے گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اس کو قتل کرنے دو۔ آپ نے فر مایا: نہیں، اگر یہ وہی دجال ہے، جس کا تمہیں اندیشہ ہو رہا ہے تو تم اسے ہرگز قتل نہیں کرسکو گے۔

وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذہن میں {یَوْمَ تَاْتِ السَّمَائُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍ۔} والی آیت تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة / حدیث: 12957
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2924 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ا3610 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3610»