الفتح الربانی
بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة— قیامت سے قبل ظاہر ہونے والی بڑی علامتوں کا بیان
جُرءَةُ ابْنِ صَيَّادٍ وَ مُحَاوَلَهُ عُمَرَ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْ قَتْلَهُ وَمَنْعُ النَّبِيِّ ﷺ إِيَّاهُ عَنْ ذلِكَ باب: ابن صیاد کی جرأت، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اس کو قتل کرنے کے ارادہ کرنے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ان کو اس سے منع کر دینے کا بیان
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَمْشِي إِذْ مَرَّ بِصِبْيَانٍ يَلْعَبُونَ فِيهِمْ ابْنُ صَيَّادٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”تَرِبَتْ يَدَاكَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ“ فَقَالَ هُوَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَعْنِي فَلَا أَضْرِبَ عُنُقَهُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنْ يَكُ الَّذِي تَخَافُ فَلَنْ تَسْتَطِيعَهُ“سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جارہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزرچند بچوں کے پاس سے ہوا، وہ کھیل رہے تھے اور ان میں ابن صیاد بھی تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں، کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ جواباً وہ کہنے لگا: اور کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ یہ صورتحال دیکھ کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ! مجھے اجازت دیجئے کہ میں اسے قتل کر دوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ وہی دجال ہے جس کا تمہیں اندیشہ ہو رہا ہے تو تم اسے ہرگز قتل نہیں کر سکو گے۔