حدیث نمبر: 12956
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَمْشِي إِذْ مَرَّ بِصِبْيَانٍ يَلْعَبُونَ فِيهِمْ ابْنُ صَيَّادٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”تَرِبَتْ يَدَاكَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ“ فَقَالَ هُوَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَعْنِي فَلَا أَضْرِبَ عُنُقَهُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنْ يَكُ الَّذِي تَخَافُ فَلَنْ تَسْتَطِيعَهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جارہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزرچند بچوں کے پاس سے ہوا، وہ کھیل رہے تھے اور ان میں ابن صیاد بھی تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں، کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ جواباً وہ کہنے لگا: اور کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ یہ صورتحال دیکھ کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ! مجھے اجازت دیجئے کہ میں اسے قتل کر دوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ وہی دجال ہے جس کا تمہیں اندیشہ ہو رہا ہے تو تم اسے ہرگز قتل نہیں کر سکو گے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة / حدیث: 12956
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2924، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4371 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4371»