حدیث نمبر: 12954
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَقِيتُ ابْنَ صَيَّادٍ مَرَّتَيْنِ فَأَمَّا مَرَّةً فَلَقِيتُهُ وَمَعَهُ بَعْضُ أَصْحَابِهِ فَقُلْتُ لِبَعْضِهِمْ نَشَدْتُكُمْ بِاللَّهِ إِنْ سَأَلْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ لَتَصْدُقُنِّي قَالُوا نَعَمْ قَالَ قُلْتُ أَتُحَدِّثُونِي أَنَّهُ هُوَ قَالُوا لَا قُلْتُ كَذَبْتُمْ وَاللَّهِ لَقَدْ حَدَّثَنِي بَعْضُكُمْ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ أَقَلُّكُمْ مَالًا وَوَلَدًا أَنَّهُ لَا يَمُوتُ حَتَّى يَكُونَ أَكْثَرَكُمْ مَالًا وَوَلَدًا وَهُوَ الْيَوْمَ كَذَلِكَ قَالَ فَحَدَّثَنَا ثُمَّ فَارَقْتُهُ ثُمَّ لَقِيتُهُ مَرَّةً أُخْرَى وَقَدْ تَغَيَّرَتْ عَيْنُهُ فَقُلْتُ مَتَى فَعَلَتْ عَيْنُكَ مَا أَرَى قَالَ لَا أَدْرِي قُلْتُ مَا تَدْرِي وَهِيَ فِي رَأْسِكَ فَقَالَ مَا تُرِيدُ مِنِّي يَا ابْنَ عُمَرَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى أَنْ يَخْلُقَهُ مِنْ عَصَاكَ هَذِهِ خَلَقَهُ وَنَخَرَ كَأَشَدِّ نَخِيرِ حِمَارٍ سَمِعْتُهُ قَطُّ فَزَعَمَ بَعْضُ أَصْحَابِي أَنِّي ضَرَبْتُهُ بِعَصًا كَانَتْ مَعِيَ حَتَّى تَكَسَّرَتْ وَأَمَّا أَنَا فَوَاللَّهِ مَا شَعَرْتُ قَالَ فَدَخَلَ عَلَى أُخْتِهِ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَأَخْبَرَهَا فَقَالَتْ مَا تُرِيدُ مِنْهُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهُ قَالَ تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ أَوَّلَ خُرُوجِهِ عَلَى النَّاسِ مِنْ غَضَبَةٍ يَغْضَبُهَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

امام نافع کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابن صیادسے دو دفعہ میری ملاقات ہوئی، ایک دفعہ جب میں اسے ملا تو اس کے ساتھ اس کے کچھ ساتھی بھی تھے، میں نے ان سے کہا: میں تم لوگوں کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ اگر میں تم سے کوئی بات پوچھوں تو تم سچ بولو گے؟ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے۔ میں نے پوچھا: کیا تم مجھے بتاؤ گے کہ یہ (ابن صیاد) وہی (دجال) ہے؟ انھوں نے کہا: نہیں، یہ وہ نہیں ہے، میں نے کہا: تم غلط کہتے ہو، اللہ کی قسم! تم ہی میں سے بعض نے مجھے بتلایا تھا کہ دجال شروع میں مال و اولاد کے لحاظ سے سب سے کم ہوگا، لیکن جب اسے موت آئے گی تو اس کا مال بھی سب سے زیادہ ہوگا اور اولاد بھی، یہ ساری باتیں اس پر صادق آتی ہیں، اس کے بعد میں اسے چھوڑ کر چلا گیا، پھر جب میری اس سے دوسری مرتبہ ملاقات ہوئی تو دیکھا کہ اس کی آنکھ خراب ہوچکی تھی، میں نے پوچھا: میں تمہاری آنکھ کو خراب دیکھ رہا ہوں، یہ کب سے ایسے ہے؟ وہ بولا: مجھے معلوم نہیں۔ میں نے کہا: یہ آنکھ تمہارے سر میں ہے اور تم نہیں جانتے کہ ایسا کب سے ہوا ہے؟ اس نے کہا: عبد اللہ بن عمر! تم مجھ سے کیا چاہتے ہو؟ اگر اللہ نے چاہا تو تمہاری اس لاٹھی سے دجال کو پیدا کر دے گا، اس کے بعد وہ زور سے گدھے کی طرح خرّاٹے لینے لگا، میں نے ایسی (مکروہ) آواز کبھی نہیں سنی تھی۔ پھر سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:میرے کچھ دوست کہتے ہیں کہ میرے پاس ایک لاٹھی تھی اورمیں نے اس کو اتنا زدو کوب کیا کہ وہ ٹوٹ گئی۔ لیکن اللہ کی قسم! مجھے تو اس چیز کا بالکل علم نہیں ہوا۔ نافع کہتے ہیں : پھر سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اپنی ہمشیرہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور ان کو یہ واقعہ بیان کیا،انہوں نے کہا: تمہیں اس سے کیا غرض ہے؟ کیا تم نہیں جانتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: دجال کا لوگوں کے سامنے پہلا ظہور شدید غصے کی صورت میں ہوگا۔

وضاحت:
فوائد: … ابن صیاد میں بعض خارق عادت امور پائے جاتے تھے، بہرحال وہ مسیح دجال نہیں تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة / حدیث: 12954
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2932، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26426 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26958»