حدیث نمبر: 12953
وَعَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ رَأَى ابْنَ صَيَّادٍ فِي سِكَّةٍ مِنْ سِكَكِ الْمَدِينَةِ فَسَبَّهُ ابْنُ عُمَرَ وَوَقَعَ فِيهِ فَانْتَفَخَ حَتَّى سَدَّ الطَّرِيقَ فَضَرَبَهُ ابْنُ عُمَرَ بِعَصًا كَانَتْ مَعَهُ حَتَّى كَسَرَهَا عَلَيْهِ فَقَالَتْ لَهُ حَفْصَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مَا شَأْنُكَ وَشَأْنُهُ يُولِعُكَ بِهِ أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّمَا يَخْرُجُ الدَّجَّالُ مِنْ غَضَبَةٍ يَغْضَبُهَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

امام نافع کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ابن صیاد کو مدینہ منورہ کی ایک گلی میں دیکھا، تو انھوں نے اسے برا بھلا کہا اور اس کی ڈانٹ ڈپٹ کی، ابن صیاد غصے سے اس قدر پھول گیا کہ راستہ بند ہوگیا، سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک لاٹھی تھی، انہوں نے اسے مار مار کر لاٹھی توڑ دی، سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: تمہیں اس سے کیا غرض ہے؟ کون سی چیز تمہیں اس پر اکسا رہی ہے؟ کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا: دجال اس وقت نکلے گا، جب اسے شدید غصہ آیا ہوا ہو گا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة / حدیث: 12953
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2932، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26425 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26957»