الفتح الربانی
بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة— قیامت سے قبل ظاہر ہونے والی بڑی علامتوں کا بیان
صِفَةُ الدَّجَّالِ وَانْطِبَاقُهَا عَلَى ابْنِ صَيَّادٍ باب: دجال کے اوصاف اور ان کی ابن صیاد سے مطابقت
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ قَالَ أَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَأَنْ أَحْلِفَ عَشْرَ مِرَارٍ أَنَّ ابْنَ صَيَّادٍ هُوَ الدَّجَّالُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَحْلِفَ مَرَّةً وَاحِدَةً أَنَّهُ لَيْسَ بِهِ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَنِي إِلَى أُمِّهِ قَالَ ”سَلْهَا كَمْ حَمَلَتْ بِهِ“ قَالَ فَأَتَيْتُهَا فَسَأَلْتُهَا فَقَالَتْ حَمَلْتُ بِهِ اثْنَيْ عَشَرَ شَهْرًا قَالَ ثُمَّ أَرْسَلَنِي إِلَيْهَا فَقَالَ ”سَلْهَا عَنْ صَيْحَتِهِ حِينَ وَقَعَ“ قَالَ فَرَجَعْتُ إِلَيْهَا فَسَأَلْتُهَا فَقَالَتْ صَاحَ صَيْحَةَ الصَّبِيِّ ابْنِ شَهْرٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنِّي قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبْأً“ قَالَ خَبَأْتَ لِي خَطْمَ شَاةٍ عَفْرَاءَ وَالدُّخَانَ قَالَ فَأَرَادَ أَنْ يَقُولَ الدُّخَانَ فَلَمْ يَسْتَطِعْ فَقَالَ الدُّخَ الدُّخَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اخْسَأْ فَإِنَّكَ لَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ“سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:اگر میں دس دفعہ قسم اٹھا کر کہوں کہ ابن صائد (یعنی ابن صیاد) ہی دجال ہے، تو یہ بات مجھے اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میں ایک دفعہ قسم اٹھا کر یہ کہوں کہ وہ دجال نہیں ہے۔ بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اس کی ماں کی طرف بھیجا اور فرمایا کہ اس سے پوچھ کرآؤ کہ اس بچے کا حمل کتنا عرصہ اس کے پیٹ میں رہا۔ میں اس کے ہاں گیا اور اس سے اس بارے میں پوچھا، اس نے بتلایا کہ بارہ مہینے اسے اس کا حمل رہا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دوبارہ بھیج دیا اور فرمایا کہ یہ پوچھ کر آؤ کہ ولادت کے وقت اس کی چیخ کیسی تھی میں اس کے پاس دوبارہ گیا اور اس سے یہ سوال کیا، اس نے بتلایا کہ اس کی چیخ ایک ماہ کے بچے کی سی تھی،پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: میں نے اپنے دل میں ایک چیز چھپائی ہے، (وہ کیا ہے)؟ ابن صیاد نے کہا:آپ مجھ سے خَطْمَ شَاۃٍ عَفْرَاءَ وَالدُّخَانَ کے الفاظ چھپائے ہیں، وہ کہتا تو الدُّخَانَ چاہتا تھا، لیکن پورا لفظ کہنے کی اسے طاقت نہ ہوئی اس لیے اس نے کہہ دیا: اَلدُّخَ اَلدُّخَ ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ذلیل ہو جا، تو اپنی حیثیت سے آگے نہیں بڑھ سکے گا۔