الفتح الربانی
بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها— قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان
فَتْحُ مَدِينَةِ القُسطنطينية باب: قسطنطنیہ کی فتح کا بیان
وَعَنْ أَبِي قَبِيلٍ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَسُئِلَ أَيُّ الْمَدِينَتَيْنِ تُفْتَحُ أَوَّلًا، الْقُسْطُنْطِينِيَّةُ أَوْ رُومِيَّةُ فَدَعَا عَبْدُ اللَّهِ بِصَنْدُوقٍ لَهُ حِلَقٌ، فَأَخْرَجَ مِنْهُ كِتَابًا، قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: بَيْنَمَا نَحْنُ حَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَكْتُبُ إِذْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْمَدِينَتَيْنِ تُفْتَحُ أَوَّلًا، أَقُسْطُنْطِينِيَّةُ أَوْ رُومِيَّةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”مَدِينَةُ هِرَقْلَ تُقْتَحُ أَوَّلًا“ يَعْنِي الْقُسْطُنْطِينِيَّةَابو قبیل کہتے ہیں: ہم سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ان سے یہ سوال کیا گیا کہ قسطنطنیہ اور رومیہ، ان دوشہروں میں سے پہلے کون سا فتح ہوگا؟ انہوں نے کنڈوں والا ایک صندوق منگوا کر اس سے ایک کتاب نکالی اور کہا:ایک دفعہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارد گرد بیٹھے احادیث لکھ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہی بات دریافت کی گئی کہ پہلے کون سا شہر فتح ہو گا، قسطنطنیہ یا رومیہ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر قل کاشہر یعنی قسطنطنیہ پہلے فتح ہوگا۔
سلطان محمد ثانی کی وفات کے بعد حکومت کی باگ ڈور اس کے تئیس سالہ بیٹے محمد ثانی کے ہاتھ آئی،یہ پہلا عثمانی سلطان تھا، جس نے فتح قسطنطنیہ کا عزم کیا اور اس کو فتح کیا۔ یہ ۸۵۷ھ کا واقعہ ہے۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: رومیہ سے مراد روم ہے، جیسا کہ (معجم البلدان) میں ہے، آج کل یہ اٹلی کا دارالخلافہ ہے۔ محمد فاتح عثمانی نے قسطنطنیہ کو فتح کیا، یہ نویں صدی ہجری کی بات ہے۔ رومیہ کی فتح بھی ہو گی، کچھ عرصے بعد لوگوں کو پتہ چل جائے گا، بلا شک و شبہ اُس فتح کے بعد خلافت ِ اسلامیہ، امت ِ مسلمہ کو مل جائے گی۔ (صحیحہ: ۴)