الفتح الربانی
بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها— قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان
حَسْرُ الْفُرَاتِ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ وَقِتَالُ النَّاسِ عَلَيْهِ باب: دریائے فرات کا سونے کے ایک پہاڑ سے سر کنے اور اس پر لوگوں کے لڑنے کا بیان
حدیث نمبر: 12945
عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”يَحْسِرُ الْفُرَاتُ أَوْ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَحْسِرَ الْفُرَاتُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ فَيَقْتَتِلَ عَلَيْهِ النَّاسُ فَيُقْتَلُ مِنْ كُلِّ مِائَةٍ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ، يَا بُنَيَّ! فَإِنْ أَدْرَكْتَهُ فَلَا تَكُونَنَّ مِمَّنْ يُقَاتِلُ عَلَيْهِ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک دریائے فرات سونے کے ایک پہاڑ کے اوپر سے ایک طرف سرک نہ جائے گا، پھر لوگ اس پر آپس میں اس قدر لڑیں گے کہ سو میں سے ننانوے آدمی اس لڑائی میں مارے جائیں گے۔ پیارے بیٹا! اگر تم ایسے حالات کو پالو تو ان لڑنے والوں میں سے نہ ہو جانا۔