الفتح الربانی
بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها— قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان
قِتَالُ التَّرْكِ بِأَرْضِ الْبَصْرَةِ باب: ارضِ بصرہ میں ترکوں کے ساتھ لڑائی کا بیان
حدیث نمبر: 12942
(وَمِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ أَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ جَمْهَانَ عَنْ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لَتَنْزِلُنَّ أَرْضًا يُقَالُ لَهَا الْبَصْرَةُ أَوِ الْبُصَيْرَةُ عَلَى دَجْلَةِ نَهْرٍ“ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ قَالَ الْعَوَّامُ: بَنُو قَنْطُورَاءَ، هُمُ التُّرْكُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ضرور دریائے دجلہ کے کنارے بصرہ یا بصیرہ کی سر زمین میں اترو گے، … پھر گزشتہ حدیث کی مانند ذکر کیا، عوام نے کہا: بنو قنطوراء سے مراد ترک ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … خلافت ِ عباسیہ کے آخری خلیفہ معتصم باللہ (صفر ۶۵۶ہجری) کے دور میں یہ واقعات ظہور پذیر ہو چکے ہیں، حدیث میں وارد علامات بغداد پر منطبق ہوتی ہیں۔