الفتح الربانی
بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها— قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان
قِتَالُ التَّرْكِ بِأَرْضِ الْبَصْرَةِ باب: ارضِ بصرہ میں ترکوں کے ساتھ لڑائی کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَنَا الْعَوَّامُ ثَنَا سَعِيدُ بْنُ جَمْهَانَ عَنِ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْضًا يُقَالُ لَهَا الْبَصْرَةُ إِلَى جَنْبِهَا نَهْرٌ يُقَالُ لَهُ دَجْلَةُ، ذُو نَخْلٍ كَثِيرٍ وَيَنْزِلُ بِهِ بَنُو قَنْطُورَاءَ، فَيَتَفَرَّقُ النَّاسُ ثَلَاثَ فِرَقٍ فِرْقَةٌ تَلْحَقُ بِأَصْلِهَا وَهَلَكُوا وَفِرْقَةٌ تَأْخُذُ عَلَى أَنْفُسِهَا وَكَفَرُوا وَفِرْقَةٌ يَجْعَلُونَ ذَرَارِيَّهُمْ خَلْفَ ظُهُورِهِمْ فَيُقَاتِلُونَ، قَتْلَاهُمْ شُهَدَاءُ، يَفْتَحُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَنْ بَقِيَّتِهِمْ، وَشَكَّ يَزِيدُ فِيهِ مَرَّةً فَقَالَ الْبُصَيْرَةُ أَوِ الْبَصْرَةُسیدنا ابو بکرہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بصرہ کی سر زمین کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: اس کی ایک جانب دجلہ نامی دریا ہے ، وہاں بہت زیادہ کھجوریں ہیں۔ بنو قنطوراء (یعنی ترک لوگ) وہاں آکر ٹھہریں گے اور مسلمان تین حصوں میں تقسیم ہو جائیں گے: ایک گروہ اپنے اصل کے ساتھ مل جائے گا، (یعنی اپنی کھیتوں اور مویشیوں میں مصروف ہوجائے گا)، یہ لوگ ہلاک ہو جائیں گے دوسرا گروہ الگ تھلک رہے گا، یہ لوگ کافر ہوں گے اور ایک گروہ اپنے بیوی بچوں کو پیچھے چھوڑ آئیں گے اورلڑیں گے، ان کے مقتولین شہید ہوں گے، پھر باقیوں کو اللہ تعالیٰ فتح عطا کرے گا۔ یزید بن ہارون کو ایک دفعہ یہ حدیث بیان کرتے ہوئے یہ شک ہوا کہ بصیرہ ہے یا بصرہ۔