الفتح الربانی
بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها— قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان
غَزْوُ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَفَارِسَ وَالرُّوْمِ باب: جزیرۂ عرب ، فارس اور روم کے غزوات کا بیان
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ ذِي مِخْمَرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”تُصَالِحُونَ الرُّومَ صُلْحًا آمِنًا، وَتَغْزُونَ أَنْتُمْ وَهُمْ عَدُوًّا مِنْ وَرَائِهِمْ، فَتَسْلَمُونَ وَتَغْنَمُونَ“، فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَفِيهِ: ”فَيَقُومُ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَيَقْتُلُهُ، فَعِنْدَ ذَلِكَ تَغْدِرُ الرُّومُ، وَتَكُونُ الْمَلَاحِمُ، فَيَجْتَمِعُونَ إِلَيْكُمْ، فَيَأْتُونَكُمْ فِي ثَمَانِينَ غَايَةً، مَعَ كُلِّ غَايَةٍ عَشْرَةُ آلَافٍ“۔ (دوسری سند) سیدنا ذی مخمر رضی اللہ عنہ ، یہ حبشی آدمی تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کرتا تھا، سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ رومیوں کے ساتھ واقعی امن والی صلح کرو گے، پھر تم ان کے ساتھ مل کر کسی اور دشمن سے لڑائی کرو گے اور تم سالم بھی رہو گے اور مالِ غنیمت بھی حاصل کروگے۔ سابقہ حدیث کی طرح ہی ذکر کیا، البتہ اس میں ہے: ایک مسلمان اٹھے گا اور اس کی طرف جا کر اسے قتل کر دے گا، اس موقع پر رومی بد عہدی کر جائیں گے اور پھر گھمسان کی جنگیں لڑی جائیں گی، وہ جمع ہو کر (۸۰) جھنڈوں پر مشتمل لشکر کی صورت میں تمہاری طرف آئیں گے اور ہر جھنڈے کے نیچے دس ہزار افراد ہوں گے۔