الفتح الربانی
بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها— قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان
غَزْوُ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَفَارِسَ وَالرُّوْمِ باب: جزیرۂ عرب ، فارس اور روم کے غزوات کا بیان
عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ ذِي مِخْمَرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”سَيُصَالِحُكُمُ الرُّومُ صُلْحًا آمِنًا، ثُمَّ تَغْزُونَ وَهُمْ عَدُوًّا، فَتُنْصَرُونَ وَتَسْلَمُونَ وَتَغْنَمُونَ، ثُمَّ تَنْصَرِفُونَ حَتَّى تَنْزِلُوا بِمَرْجٍ ذِي تُلُولٍ، فَيَرْفَعُ رَجُلٌ مِنَ النَّصْرَانِيَّةِ صَلِيبًا فَيَقُولُ: غَلَبَ الصَّلِيبُ، فَيَغْضَبُ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَيَقُومُ إِلَيْهِ فَيَدُقُّهُ، فَعِنْدَ ذَلِكَ تَغْدِرُ الرُّومُ وَيَجْمَعُونَ لِلْمَلْحَمَةِ“ایک صحابی ٔ رسول سیدنا ذی مِخمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ اہل روم تم سے امن والی صلح کر لیں گے، پھر تم اور وہ مل کر ایک مشترکہ دشمن سے لڑائی کرو گے،تمہاری مدد کی جائے گی، پس تم سالم رہو گے اور مالِ غنیمت حاصل کرو گے، لیکن جب تم سرسبز وشاب ٹیلوں والے مقام میں قیام کرو گے تواس وقت ایک عیسائی آدمی صلیب کو بلند کر کے کہے گا کہ صلیب غالب آگئی ہے۔ یہ سن کر ایک مسلمان غیرت کرے گا اور اٹھ کر اس صلیب کو توڑ ڈالے گا، اس موقع پر رومی تمہارے ساتھ بدعہدی کریں گے اور وہ گھمسان کی جنگ کے لیے جمع ہو جائیں گے۔