الفتح الربانی
بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها— قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان
غَزْوُ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَفَارِسَ وَالرُّوْمِ باب: جزیرۂ عرب ، فارس اور روم کے غزوات کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ عَنْ نَافِعِ بْنِ عُتْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، فَأَتَاهُ قَوْمٌ مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ عَلَيْهِمْ ثِيَابُ الصُّوفِ، فَوَافَقُوهُ عِنْدَ أَكَمَةٍ، وَهُمْ قِيَامٌ وَهُوَ قَاعِدٌ، فَأَتَيْتُهُ فَقُمْتُ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُ، فَحَفِظْتُ مِنْهُ أَرْبَعَ كَلِمَاتٍ أَعُدُّهُنَّ فِي يَدَيَّ، قَالَ: ”تَغْزُونَ جَزِيرَةَ الْعَرَبِ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ، ثُمَّ تَغْزُونَ فَارِسَ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ، ثُمَّ تَغْزُونَ الرُّومَ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ، ثُمَّ تَغْزُونَ الدَّجَّالَ فَيَفْتَحُهُ اللَّهُ“، قَالَ نَافِعٌ: يَا جَابِرُ! أَلَا تَرَى أَنَّ الدَّجَّالَ لَا يَخْرُجُ حَتَّى تُفْتَحَ الرُّومُسیدنا نافع بن عتبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں شریک تھا،مغرب کے علاقے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کچھ لوگ آئے، انھوں نے اونی لباس کے کپڑے پہنے ہوئے تھے، ایک ٹیلے کے پاس ان کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات ہوئی، وہ کھڑے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے، میں بھی آکر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اور ان کے درمیان کھڑا ہوگیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چار باتیں یاد کر لیں، اب میں ان کو اپنے ہاتھ پر شمار کر سکتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا:: تم جزیرۂ عرب کے باسیوں سے لڑائی کرو گے‘ اللہ تعالیٰ فتح نصیب فرمائے گا‘ پھر فارس سے لڑائی ہو گی‘ وہ بھی فتح ہو جائے گا‘ پھر روم سے لڑائی ہو گی، اللہ تعالیٰ فتح دے گا اور پھر تم دجال سے لڑائی کرو گے‘ اس پر بھی اللہ تعالیٰ تم کو فتح سے ہمکنار کرے گا۔