الفتح الربانی
بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها— قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان
بيعةُ الْمَهْدِي وَالْخَسْفُ بِأَعْدَائِهِ باب: امام مہدی کی بیعت اور ان کے مخالفین کا زمین میں دھنسنے کا بیان
عَنْ صَفِيَّةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لَا يَنْتَهِي النَّاسُ عَنْ غَزْوِ هَذَا الْبَيْتِ حَتَّى يَغْزُوهُ جَيْشٌ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ خُسِفَ بِأَوَّلِهِمْ وَآخِرِهِمْ، وَلَمْ يَنْجُ أَوْسَطُهُمْ“، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَرَأَيْتَ الْمُكْرَهَ مِنْهُمْ؟ قَالَ: ”يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ عَلَى مَا فِي أَنْفُسِهِمْ“ام المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگ اس بیت اللہ پر چڑھائی کرتے رہنے سے باز نہیں آئیں گے، یہاں تک کہ اسی طرح کا ایک لشکر یہی ارادہ کر کے چلے گا، لیکن جب وہ بیداء کے مقام تک پہنچیں گے توان کے شروع والے، آخر والے سب کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا اور درمیان والے بھی نہیں بچ سکیں گے۔ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان لوگوں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، جو مجبوراً آئے ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ ان کو ان کے دلوں کی نیتوں کے مطابق اٹھائے گا۔